کتب حدیث ›
مستدرکِ حاکم › ابواب
› باب: نماز میں ادھر اُدھر دیکھنا شیطان کی طرف سے بندے کی نماز میں چوری ہے۔
أخبرَناه أبو جعفر أحمد بن عُبيد بن إبراهيم الحافظ بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا أبو تَوْبة الرَّبيع بن نافع، حدثنا معاوية بن سلَّام، أخبرني زيد بن سلّام، أنه سمع أبا سلّام يقول: حدَّثني أبو كَبْشة السَّلُولي، أنه حدَّثه عن سهل بن الحنظليَّة قال: لمَّا سارَ رسولُ الله ﷺ إلى حُنَين قال: "ألَا رجلٌ يَكلَوُنا الليلةَ! " فقال أنس بن أبي مَرثَد الغَنَوي: أنا يا رسول الله، قال: "انطلِقْ" فلما كان الغدُ خرج النبيُّ ﷺ فقال: "هل حَسَستُم فارسَكم؟ " قالوا: لا، فجعل النبيُّ ﷺ يصلِّي ويَلتِفتُ إلى الشِّعْب، فلما سلَّم قال: "إنَّ فارسَكم قد أقبَلَ"، فلما جاء قال: "لعلَّكَ نَزَلتَ؟ " قال: لا، إلّا مصلِّيًا أو قاضيًا حاجةً، ثم قال: إني اطَّلعتُ الشَّعبَينِ فإِذا هَوازِنُ بِظُعُنِهم وشائِهم ونَعَمِهم متوجِّهون إلى حُنَيْنٍ، فقال رسول الله ﷺ: "غَنيمةٌ للمسلمين غدًا إن شاء الله" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 865 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 865 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سہل بن حنظلیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ حنین کی طرف روانہ ہوئے تو فرمایا: ”کیا کوئی شخص ہے جو آج رات ہماری نگہبانی کرے؟“ سیدنا انس بن ابی مرثد غنوی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں (حاضر ہوں)، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ۔“ اگلے دن نبی کریم ﷺ باہر تشریف لائے اور فرمایا: ”کیا تمہیں اپنے شہسوار کی کوئی خبر ملی؟“ لوگوں نے عرض کیا: نہیں، چنانچہ نبی کریم ﷺ نماز پڑھنے لگے اور (نماز کے دوران) گھاٹی کی طرف دیکھتے رہے (تاکہ پہرے دار کی خبر لیں)، جب سلام پھیرا تو فرمایا: "تمہارا شہسوار آ چکا ہے،" جب وہ آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”شاید تم (کہیں سواری سے) اترے تھے؟“ انہوں نے عرض کیا: نہیں، سوائے نماز پڑھنے یا قضائے حاجت کے، پھر انہوں نے کہا: میں نے دونوں گھاٹیوں پر چڑھ کر دیکھا تو ہوازن اپنی ہودج نشین عورتوں، بکریوں اور اونٹوں سمیت حنین کی طرف بڑھ رہے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «غَنِيمَةٌ لِلْمُسْلِمِينَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ.» ”ان شاء اللہ یہ کل مسلمانوں کے لیے غنیمت ہو گا۔“
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن يونس الضَّبّي البغدادي بأصبهان، حدثنا مُحاضِر بن المورِّع، حدثنا هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن زيد بن ثابت: أن رسول الله ﷺ كان يقرأُ في المغرب بسورةِ الأعراف في الركعتين كِلتَيهما (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين إن لم يكن فيه إرسال، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، إنما اتفقا (2) على حديث ابن جُرَيج عن ابن أبي مُليَكة عن عُروة عن مروان عن زيد بن ثابت: كان النبي ﷺ يقرأ في صلاة المغرب يطوِّل الركعتين. وحديث مُحاضر هذا مفسَّر ملخَّص، وقد اتفقا على الاحتجاج بمُحاضِر.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 866 - فيه انقطاع
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين إن لم يكن فيه إرسال، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، إنما اتفقا (2) على حديث ابن جُرَيج عن ابن أبي مُليَكة عن عُروة عن مروان عن زيد بن ثابت: كان النبي ﷺ يقرأ في صلاة المغرب يطوِّل الركعتين. وحديث مُحاضر هذا مفسَّر ملخَّص، وقد اتفقا على الاحتجاج بمُحاضِر.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 866 - فيه انقطاع
حافظ طلحہ بابر
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ مغرب کی دونوں رکعتوں میں سورہ اعراف پڑھا کرتے تھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے بشرطیکہ اس میں ارسال نہ ہو، لیکن انہوں نے اسے اس لفظ کے ساتھ روایت نہیں کیا بلکہ صرف طویل قرأت پر اتفاق کیا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے بشرطیکہ اس میں ارسال نہ ہو، لیکن انہوں نے اسے اس لفظ کے ساتھ روایت نہیں کیا بلکہ صرف طویل قرأت پر اتفاق کیا ہے۔