حدیث نمبر: 774
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مرزوق البَصْري بمصر، حدثنا أبو عامر العَقَدي، حدثنا ابن أبي ذِئْب عن سعيد بن سِمْعان قال: دخل علينا أبو هريرة مسجدَ بني زُرَيق فقال: ثلاثٌ كان رسول الله ﷺ يعمل بهنَّ تركهنَّ الناسُ: كان إذا قامَ إلى الصلاة قال هكذا؛ وأشار أبو عامر بيده، ولم يُفرِّج بين أصابعه ولم يَضُمَّها (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشاهده المفسَّر:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 856 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم «آمِيْن» کہو تو فرشتے بھی آسمان میں «آمِيْن» کہتے ہیں، جس کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہو گئی اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإمامة وصلاة الجماعة / حدیث: 774
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، أبو عامر العقدي هو عبد الملك بن عمرو» [ترقيم الرساله 774] [ترقيم الشركة 862] [ترقيم العلميه 856]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح أبو عامر العقدي هو عبد الملك بن عمرو.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
اہم نکتہ: "ابو عامر العقدی" سے مراد عبدالملک بن عمرو ہیں۔
وأخرجه بنحوه أحمد 15/ (9608) و 16/ (10492)، وأبو داود (753)، والترمذي (240)، والنسائي (959) من طرق عن ابن أبي ذئب، بهذا الإسناد - ولفظه عند أحمد والنسائي بتمامه: ثلاث كان رسول الله ﷺ يعمل بهنَّ قد تركهنَّ الناس: كان يرفع يديه مدًّا إذا دخل في الصلاة، ويكبِّر كلما ركع ورفع، والسكوت قبل القراءة يسأل الله من فضله. وعند أبي داود والترمذي مختصر: كان إذا دخل في الصلاة رفع يديه مدًّا. وسيأتي برقم (876) بذكر اثنتين من الثلاث.
حوالہ / مصدر: اسے اسی کے مثل امام احمد نے 15 / (9608) اور 16 / (10492) میں، نیز ابوداؤد (753)، ترمذی (240) اور نسائی (959) نے ابن ابی ذئب کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
تفصیلِ روایت: احمد اور نسائی کے ہاں مکمل الفاظ یہ ہیں: "تین کام ایسے ہیں جو رسول اللہ ﷺ کیا کرتے تھے مگر لوگوں نے انہیں چھوڑ دیا: نماز شروع کرتے وقت ہاتھوں کو کھینچ کر اٹھانا، ہر رکوع اور سجدے میں جاتے اور اٹھتے وقت تکبیر کہنا، اور قرات سے پہلے خاموشی اختیار کر کے اللہ سے فضل مانگنا۔" ابوداؤد اور ترمذی کے ہاں یہ مختصر ہے کہ "جب آپ نماز میں داخل ہوتے تو ہاتھ کھینچ کر اٹھاتے۔" ان تین میں سے دو کا ذکر آگے نمبر (876) پر آئے گا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 774 سے ماخوذ ہے۔