أخبرنا أبو بكر بن أبي دارم الحافظ، حَدَّثَنَا أحمد بن موسى التَّميمي، حَدَّثَنَا أبو بلال الأشعري، حَدَّثَنَا أبو شِهَاب، عن هشام بن حسَّان، عن الحسن، عن عثمان بن أبي العاص قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: وَقتَ للنساء في نفاسِهِنَّ أربعين يومًا (3). هذه سُنَّة عزيزة، فإن سَلِمَ هذا الإسنادُ من أبي بلال، فإنه مُرسَل صحيح، فإِنَّ الحسن لم يسمع من عثمان بن أبي العاص. وله شاهد بإسنادٍ مثله:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 624 - تفرد به أبو بلال الأشعري عن ابن شهاب فإن سلم منه فإنه مرسل صحيح فإن الحسن لم يسمع من عثمان بن أبي العاص وله شاهد
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 624 - تفرد به أبو بلال الأشعري عن ابن شهاب فإن سلم منه فإنه مرسل صحيح فإن الحسن لم يسمع من عثمان بن أبي العاص وله شاهد
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ آپ ﷺ نے عورتوں کے لیے نفاس کی مدت چالیس دن مقرر فرمائی ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اگر یہ سند محفوظ ہے تو یہ مرسلِ صحیح ہے کیونکہ امام حسن بصری کا سیدنا عثمان بن ابی العاص سے سماع ثابت نہیں ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اگر یہ سند محفوظ ہے تو یہ مرسلِ صحیح ہے کیونکہ امام حسن بصری کا سیدنا عثمان بن ابی العاص سے سماع ثابت نہیں ہے۔
أخبرَناه أبو بكر محمد بن عبد الله الحَفيد (1)، حَدَّثَنَا موسى بن زكريا التُّستَري: وحدثنا عمرو بن الحُصَين، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الله بن عُلَاثة، عن عَبْدة بن أبي لُبَابة، عن عبد الله بن باباهُ، عن عبد الله بن عمرو قال: قال رسول الله ﷺ: "تَنتَظِرُ النُّفَساءُ أربعين ليلةً، فإن رأَتِ الطُّهرَ قبلَ ذلك فهي طاهرٌ، وإن جاوزَتِ الأربعينَ فهي بمنزلة المُستَحاضَةِ تغتسلُ وتصلِّي، فإنْ غَلَبَها الدمُ توضّأت لكلِّ صلاة" (2). عمرو بن الحصين ومحمد بن عُلَاثة ليسا من شرط الشيخين، وإنما ذكرتُ هذا الحديث شاهدًا متعجبًا.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نفاس والی عورت چالیس راتیں انتظار کرے، اگر اس سے پہلے پاک ہو جائے تو وہ پاک ہے، اور اگر چالیس دن سے تجاوز کر جائے تو وہ مستحاضہ کے حکم میں ہے، وہ غسل کرے اور نماز پڑھے، اور اگر خون غالب رہے تو ہر نماز کے لیے وضو کرے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ عمرو بن حصین اور محمد بن علاثہ شیخین کی شرط پر نہیں ہیں لیکن میں نے اسے بطور شاہد ذکر کیا ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ عمرو بن حصین اور محمد بن علاثہ شیخین کی شرط پر نہیں ہیں لیکن میں نے اسے بطور شاہد ذکر کیا ہے۔
أخبرنا أبو سهل أحمد بن محمد بن زياد النَّحْوي ببغداد، حَدَّثَنَا أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل السُّلَمي، حَدَّثَنَا عبد السلام بن محمد الحمصي ولقبُه سُلَيم، حَدَّثَنَا بقيَّة بن الوليد، أخبرني الأسود بن ثعلبة، عن عُبَادة بن نُسَيّ، عن عبد الرحمن بن عثمان، عن معاذ بن جبل، عن النَّبِيّ ﷺ قال: "إذا مضى للنُّفَساء سبعٌ ثم رأَت الطُّهرَ، فلتغتَسِل ولتُصلِّ" (1). وقد استَشهَد مسلمٌ ببقيَّة بن الوليد، وأما الأسود بن ثعلبة فإنه شامي معروف، والحديث غريب في الباب.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 626 - غريب والأسود شامي معروف
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 626 - غريب والأسود شامي معروف
حافظ طلحہ بابر
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب نفاس والی عورت کے سات دن گزر جائیں اور وہ پاکیزگی دیکھ لے تو اسے غسل کر کے نماز پڑھنی چاہیے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ امام مسلم نے بقیہ بن ولید سے استشہاد کیا ہے اور اسود بن ثعلبہ معروف شامی راوی ہیں، البتہ یہ حدیث اس باب میں غریب ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ امام مسلم نے بقیہ بن ولید سے استشہاد کیا ہے اور اسود بن ثعلبہ معروف شامی راوی ہیں، البتہ یہ حدیث اس باب میں غریب ہے۔