کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: کسی مؤمن مرد کے لیے جائز نہیں کہ وہ پیشاب یا پاخانے کے دباؤ کی حالت میں نماز پڑھے۔
حَدَّثَنَا أبو الفضل محمد بن إبراهيم المزكِّي، حَدَّثَنَا يوسف بن موسى المَروَالرُّوذيُّ، حَدَّثَنَا محمود بن خالد الدمشقي، حَدَّثَنَا شعيب بن إسحاق، عن ثَوْر بن يزيد، عن يزيد بن شُريح الحضرمي، عن أبي هريرة، عن النَّبِيّ ﷺ قال: "لا يَحِلُّ لرجلٍ يؤمنُ بالله واليوم الآخَر أن يصليَ وهو حَقِنٌ حتَّى يخفِّفَ" (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھنے والے کسی شخص کے لیے یہ حلال نہیں کہ وہ (پیشاب یا پاخانہ) روک کر اس حال میں نماز پڑھے کہ اسے سخت حاجت ہو، یہاں تک کہ وہ اس سے فارغ ہو کر ہلکا نہ ہو جائے۔“
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا يحيى بن محمد بن يحيى، حَدَّثَنَا مُسدَّد. وأخبرنا أحمد بن جعفر، حَدَّثَنَا عبد الله بن أحمد، حدَّثني أبي؛ قالا: حَدَّثَنَا يحيى بن سعيد، عن أبي حَزْرة، حَدَّثَنَا عبد الله بن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حَزْم، عن القاسم بن محمد قال: كنا عند عائشة فجِيءَ بطعامها، فقام القاسم بن محمد يصلي، فقالت: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "لا يُصلَّى بحَضْرة الطعام، ولا وهو يدافعُه الأخبَثانِ" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا قاسم بن محمد بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھے کہ ان کا کھانا لایا گیا، قاسم بن محمد نماز کے لیے کھڑے ہونے لگے تو سیدہ عائشہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”کھانے کی موجودگی میں نماز نہیں ہوتی، اور نہ ہی اس وقت جب انسان کو پیشاب اور پاخانے کی سخت حاجت ہو۔“
أخبرنا أزهَرُ بن أحمد بن حَمدُون المُنادِي ببغداد، حَدَّثَنَا عبد الملك بن محمد الرَّقَاشي، حَدَّثَنَا أبو عَتَّاب سهل بن حماد، حَدَّثَنَا عبد العزيز بن عبد الله بن أبي سَلَمة، عن عمرو بن يحيى، عن أبيه، عن عبد الله بن زيد قال: جاءنا رسولُ الله ﷺ، فأخرَجْنا له ماءٌ في تَوْرٍ من صُفْرٍ فتوضأ (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه! وله شاهد من حديث عائشة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 600 - على شرطهما
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه! وله شاهد من حديث عائشة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 600 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، ہم نے آپ ﷺ کے لیے پیتل کے ایک برتن میں پانی نکالا تو آپ ﷺ نے اس سے وضو فرمایا۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدَّثَناه علي بن عيسى الحِيري، حَدَّثَنَا الحسين بن محمد بن زياد، حَدَّثَنَا أبو كُرَيب، حَدَّثَنَا إسحاق بن منصور، عن حماد بن سَلَمة، عن هشام بن عُروة، عن أبيه، عن عائشة قالت: كنت أغتسلُ أنا ورسولُ الله ﷺ فِي تَوْرٍ من شَبَهٍ (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ ﷺ پیتل کے ایک برتن سے (ایک ساتھ) غسل کیا کرتے تھے۔