المستدرك على الصحيحين
كتاب الطهارة— طہارت کا بیان
لَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ مُؤْمِنٍ أَنْ يُصَلِّيَ وَهُوَ حَقِنٌ باب: کسی مؤمن مرد کے لیے جائز نہیں کہ وہ پیشاب یا پاخانے کے دباؤ کی حالت میں نماز پڑھے۔
حدیث نمبر: 609
أخبرنا أزهَرُ بن أحمد بن حَمدُون المُنادِي ببغداد، حَدَّثَنَا عبد الملك بن محمد الرَّقَاشي، حَدَّثَنَا أبو عَتَّاب سهل بن حماد، حَدَّثَنَا عبد العزيز بن عبد الله بن أبي سَلَمة، عن عمرو بن يحيى، عن أبيه، عن عبد الله بن زيد قال: جاءنا رسولُ الله ﷺ، فأخرَجْنا له ماءٌ في تَوْرٍ من صُفْرٍ فتوضأ (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه! وله شاهد من حديث عائشة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 600 - على شرطهماحافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، ہم نے آپ ﷺ کے لیے پیتل کے ایک برتن میں پانی نکالا تو آپ ﷺ نے اس سے وضو فرمایا۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد جيد.
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے اور اس کی سند جید (عمدہ) ہے۔
وأخرجه أبو داود (100) عن الحسن بن علي الخلال، عن أبي الوليد الطيالسي وسهل بن حماد، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام ابوداؤد نے (100) میں حسن بن علی الخلال کے واسطے سے ابوالولید الطیالسی اور سہل بن حماد سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه البخاريّ (197)، وابن ماجه (471) من طريق أحمد بن عبد الله بن يونس، عن عبد العزيز بن عبد الله بن أبي سلمة - وهو الماجشون - به. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری نے (197) اور ابن ماجہ نے (471) میں احمد بن عبداللہ بن یونس عن عبدالعزیز بن عبداللہ بن ابی سلمہ (الماجشون) کی سند سے روایت کیا ہے۔
اہم نکتہ: امام حاکم کا اس پر استدراک کرنا ان کا سہو ہے کیونکہ یہ بخاری میں پہلے سے موجود ہے۔
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے اور اس کی سند جید (عمدہ) ہے۔
وأخرجه أبو داود (100) عن الحسن بن علي الخلال، عن أبي الوليد الطيالسي وسهل بن حماد، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام ابوداؤد نے (100) میں حسن بن علی الخلال کے واسطے سے ابوالولید الطیالسی اور سہل بن حماد سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه البخاريّ (197)، وابن ماجه (471) من طريق أحمد بن عبد الله بن يونس، عن عبد العزيز بن عبد الله بن أبي سلمة - وهو الماجشون - به. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری نے (197) اور ابن ماجہ نے (471) میں احمد بن عبداللہ بن یونس عن عبدالعزیز بن عبداللہ بن ابی سلمہ (الماجشون) کی سند سے روایت کیا ہے۔
اہم نکتہ: امام حاکم کا اس پر استدراک کرنا ان کا سہو ہے کیونکہ یہ بخاری میں پہلے سے موجود ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 609 سے ماخوذ ہے۔