حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن الحسين بن الجُنيد، حدثنا محمد بن إسحاق المسيَّبي (3) بالمدينة، حدثنا عبد الله بن نافع، عن داود بن قيس ومالك بن أنس، عن زيد بن أسلم، عن عطاء بن يسار، عن أسامة بن زيد، عن بلال قال: دخلتُ الأسوافَ (4) مع رسول الله ﷺ فذهب لحاجتِه، قال: فجاء فناولتُه ماءً فتوضأ، ثم ذهب ليُخرِجَ ذراعَيهِ من جَيْبه فلم يَقدِرْ فأخرجهما من تحت الجُبَّة، فتوضأ ومَسَحَ على خُفَّيه (5).
هذا حديث صحيح من حديث مالك بن أنس، وهو صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه. وفيه فائدة كبيرة وهي: أنهما لم يخرجا حديثَ صفوان بن عسَّال في مسح رسول الله ﷺ على الخُفَّين في الحَضَر وذِكْر التوقيت فيه (1)، إنما اتفقا على أخبار علي بن أبي طالب والمغيرة بن شُعْبة في المَسح على الخُفَّين (2) ..... (3) فإنَّ الأسواف مَحَلَّة مشهورة من محَالِّ المدينة. والحديث مشهور بداود بن قيس الفرَّاء:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 536 - على شرطهما
هذا حديث صحيح من حديث مالك بن أنس، وهو صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه. وفيه فائدة كبيرة وهي: أنهما لم يخرجا حديثَ صفوان بن عسَّال في مسح رسول الله ﷺ على الخُفَّين في الحَضَر وذِكْر التوقيت فيه (1)، إنما اتفقا على أخبار علي بن أبي طالب والمغيرة بن شُعْبة في المَسح على الخُفَّين (2) ..... (3) فإنَّ الأسواف مَحَلَّة مشهورة من محَالِّ المدينة. والحديث مشهور بداود بن قيس الفرَّاء:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 536 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر
سیدنا بلال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ”اسواف“ (مدینہ کے ایک باغ) میں گیا، آپ ﷺ اپنی حاجت کے لیے تشریف لے گئے، پھر جب واپس آئے تو میں نے آپ ﷺ کو پانی پیش کیا، آپ ﷺ نے وضو فرمایا، پھر آپ ﷺ نے اپنے دونوں بازو قمیص کے گریبان سے نکالنے کی کوشش کی لیکن وہ (تنگ ہونے کی وجہ سے) نہ نکل سکے، تو آپ ﷺ نے انہیں جبے کے نیچے سے نکالا، پھر آپ ﷺ نے وضو مکمل کیا اور اپنے موزوں پر مسح فرمایا۔
یہ حدیث امام مالک بن انس کی روایت سے صحیح ہے، اور یہ امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر بھی صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اس میں ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ شیخین نے مقیم کی حالت میں موزوں پر مسح اور اس کی مدت کے تعین کے بارے میں صفوان بن عسال کی حدیث روایت نہیں کی، بلکہ انہوں نے سیدنا علی اور مغیرہ بن شعبہ کی روایات پر اتفاق کیا ہے، جبکہ ”اسواف“ مدینہ کے مشہور محلوں میں سے ایک ہے۔
یہ حدیث امام مالک بن انس کی روایت سے صحیح ہے، اور یہ امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر بھی صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اس میں ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ شیخین نے مقیم کی حالت میں موزوں پر مسح اور اس کی مدت کے تعین کے بارے میں صفوان بن عسال کی حدیث روایت نہیں کی، بلکہ انہوں نے سیدنا علی اور مغیرہ بن شعبہ کی روایات پر اتفاق کیا ہے، جبکہ ”اسواف“ مدینہ کے مشہور محلوں میں سے ایک ہے۔
حدثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا أحمد بن محمد بن نصر، حدثنا أبو نُعَيم، عن داود بن قيس، عن زيد بن أسلَمَ، عن عطاء بن يَسَار، عن أسامة بن زيد قال: دخل النبيُّ ﷺ الأسوافَ فذهب لحاجتِه ومعه بلال، ثم خَرَجا، فسألتُ بلالًا: ماذا صنع؟ قال: توضَّأَ فغَسَلَ وجهَه ويديه ومسح برأسِه ومسح على الخُفَّين (4).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فقد احتجَّ بداود بن قيس.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فقد احتجَّ بداود بن قيس.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ”اسواف“ میں داخل ہوئے اور اپنی حاجت کے لیے تشریف لے گئے، آپ کے ساتھ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ بھی تھے، جب وہ باہر آئے تو میں نے بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ ﷺ نے کیا کیا؟ انہوں نے بتایا: ”آپ ﷺ نے وضو فرمایا، اپنے چہرے اور ہاتھوں کو دھویا، سر کا مسح کیا اور موزوں پر بھی مسح فرمایا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے کیونکہ انہوں نے داؤد بن قیس سے احتجاج کیا ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے کیونکہ انہوں نے داؤد بن قیس سے احتجاج کیا ہے۔
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا الحسين بن علي؛ ثم حدَّثَناه أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا محمد بن أحمد بن أبي عبيد الله بمصر، حدثنا عبد العزيز بن عِمران بن مِقْلاص وحَرمَلة بن يحيى قالا: أخبرنا ابن وَهْب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن حَبَّان بن واسع، عن أبيه، عن عبد الله بن زيد الأنصاري قال: رأيت رسولَ الله ﷺ يتوضَّأُ، فأخذ ماءً لأُذنيه خلافَ الماءِ الذي مسح به رأسَه (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين إذا سَلِمَ من ابن أبي عُبيد الله هذا، فقد احتجَّا جميعًا بجميع رواته. وقد حدَّثَناه أبو الوليد عن أبي علي. وشاهده:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 538 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين إذا سَلِمَ من ابن أبي عُبيد الله هذا، فقد احتجَّا جميعًا بجميع رواته. وقد حدَّثَناه أبو الوليد عن أبي علي. وشاهده:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 538 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، آپ ﷺ نے اپنے کانوں (کے مسح) کے لیے الگ سے پانی لیا جو اس پانی کے علاوہ تھا جس سے آپ ﷺ نے سر کا مسح فرمایا تھا۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔
ما حدَّثَناه أبو الوليد الفقيه غيرَ مرَّة، حدثنا الحسن بن سفيان، حدثنا حَرمَلة بن يحيى، حدثنا ابن وهب، عن عمرو بن الحارث، عن حَبَّان بن واسع، أنَّ أباه حدثه، أنه سمع عبدَ الله بن زيد: أنَّ النبي ﷺ مَسَحَ أُذنيه [بماءٍ] (1) غيرِ الماء الذي مسح به رأسَه. وهذا يصرِّح بمعنى الأول، وهو صحيحٌ مثله.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 539 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 539 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے کانوں کا مسح اس پانی کے علاوہ دوسرے پانی سے کیا جس سے سر کا مسح فرمایا تھا۔ یہ روایت پہلی روایت کے معنی کی وضاحت کرتی ہے اور اس کی طرح صحیح ہے۔
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا بِشْر بن المفضَّل، حدثنا عبد الله بن محمد بن عَقِيل، عن الرُّبيِّع بنت مُعوِّذ: أنَّ النبي ﷺ مسح أُذنيه باطنَهما وظاهرَهما (2). ولم يحتجَّا بابن عَقيلٍ، وهو مستقيم الحديث مُقدَّم في الشَّرَف.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 540 - ابن عقيل مستقيم الحديث
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 540 - ابن عقيل مستقيم الحديث
حافظ طلحہ بابر
سیدہ ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے کانوں کے اندرونی اور بیرونی حصے کا مسح فرمایا۔
اگرچہ شیخین نے ابن عقیل سے احتجاج نہیں کیا، لیکن ان کی حدیث درست اور قابل قبول ہے۔
اگرچہ شیخین نے ابن عقیل سے احتجاج نہیں کیا، لیکن ان کی حدیث درست اور قابل قبول ہے۔