کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: وضو دو دو یا ایک ایک بار اعضا دھونے سے بھی مکمل ہو جاتا ہے۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفَّان العامِري، حدثنا زيد بن الحُبَاب. وأخبرني محمد بن الخليل الأصبهاني، حدثنا موسى بن إسحاق الأنصاري، حدثنا أبو بكر بن أبي شَيْبة، حدثنا زيد بن الحُباب، حدثنا عبد الرحمن بن ثابت بن ثَوْبان، حدثنا عبد الله بن الفضل الهاشمي .... (2)، حدثنا زيد بن الحُباب، حدثنا عبد الرحمن بن ثابت، حدثني عبد الله بن الفضل، عن عبد الرحمن الأعرج، عن أبي هريرة: أنَّ رسول الله ﷺ توضَّأَ مرَّتين مرَّتين (3).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وشاهده الحديث المرسَل المشهور عن معاوية بن قُرَّة عن ابن عمر: أنَّ رسول الله ﷺ توضأ مرةً مرةً، ثم قال: "هذا وظيفةُ الوضوء"، ثم توضأ مرتين مرتين فقال: "هذا الوسَطُ من الوضوء الذي يُضاعِفُ الله الأجرَ لصاحبه مرتين" الحديث بطوله (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 533 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اعضاء کو دو دو مرتبہ دھو کر وضو فرمایا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اس کا شاہد سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی مشہور مرسل روایت ہے جس میں ہے کہ آپ ﷺ نے ایک ایک بار وضو کیا اور فرمایا: ”یہ وضو کی وہ مقدار ہے جس کے بغیر چارہ نہیں،“ پھر دو دو بار وضو کیا اور فرمایا: ”یہ وہ درمیانہ وضو ہے جس پر اللہ اجر کو دوگنا کر دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطهارة / حدیث: 540
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل عبد الرحمن بن ثابت بن ثوبان- ، وأخرجه أحمد 13/ (7877) و 14/ (8762)، وأبو داود (136)، والترمذي (43)، وابن حبان (1094) من طريق زيد بن الحباب، بهذا الإسناد-» [ترقيم الرساله 540] [ترقيم الشركة 535] [ترقيم العلميه 533]
حدثنا أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني، حدثنا أبو خليفة القاضي، حدثنا أبو الوليد هشام بن عبد الملك، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن زيد بن أسلم، عن عطاء بن يَسَار، عن ابن عباس: أنَّ النبي ﷺ توضأ مرةً مرةً، وجَمَعَ بين المضمضة والاستنشاق (2).
هذا حديث صحيح على شرطهما، ولم يُخرجا الجمع بين المضمضة والاستنشاق (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 534 - أخرجا أوله
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے وضو میں (اعضاء کو) ایک ایک بار دھویا، اور آپ ﷺ نے کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کے عمل کو ایک ساتھ (ایک ہی چلو سے) جمع فرمایا۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے کلی اور ناک میں پانی ڈالنے کے عمل کو یکجا کرنے کا ذکر روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطهارة / حدیث: 541
درجۂ حدیث محدثین: إسناده قوي
تخریج حدیث «إسناده قوي،، أبو خليفة: هو الفضل بن الحُباب» [ترقيم الرساله 541] [ترقيم الشركة 536] [ترقيم العلميه 534]
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن عيسى بن السَّكَن، حدثنا القَعنَبي، حدثنا داود بن قيس الفَرَّاء، عن زيد بن أسلم، عن عطاء بن يَسار، عن ابن عباس: أنَّ النبي ﷺ توضأ بغَرْفةٍ غَرْفةٍ (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے (وضو کے ہر عضو کے لیے) ایک ایک چلو پانی لے کر وضو فرمایا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطهارة / حدیث: 542
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 542] [ترقيم الشركة 537]