المستدرك على الصحيحين
كتاب الطهارة— طہارت کا بیان
الْمَسْحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ باب: موزوں پر مسح کرنا۔
حدیث نمبر: 544
حدثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا أحمد بن محمد بن نصر، حدثنا أبو نُعَيم، عن داود بن قيس، عن زيد بن أسلَمَ، عن عطاء بن يَسَار، عن أسامة بن زيد قال: دخل النبيُّ ﷺ الأسوافَ فذهب لحاجتِه ومعه بلال، ثم خَرَجا، فسألتُ بلالًا: ماذا صنع؟ قال: توضَّأَ فغَسَلَ وجهَه ويديه ومسح برأسِه ومسح على الخُفَّين (4).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فقد احتجَّ بداود بن قيس.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ”اسواف“ میں داخل ہوئے اور اپنی حاجت کے لیے تشریف لے گئے، آپ کے ساتھ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ بھی تھے، جب وہ باہر آئے تو میں نے بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ ﷺ نے کیا کیا؟ انہوں نے بتایا: ”آپ ﷺ نے وضو فرمایا، اپنے چہرے اور ہاتھوں کو دھویا، سر کا مسح کیا اور موزوں پر بھی مسح فرمایا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے کیونکہ انہوں نے داؤد بن قیس سے احتجاج کیا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(4) إسناده صحيح. أبو نعيم: هو الفضل بن دُكَين. وانظر ما قبله.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابونعیم سے مراد الفضل بن دُکین ہیں۔
نوٹ / توضیح: مزید تفصیل کے لیے اس سے پہلی روایت ملاحظہ فرمائیں۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابونعیم سے مراد الفضل بن دُکین ہیں۔
نوٹ / توضیح: مزید تفصیل کے لیے اس سے پہلی روایت ملاحظہ فرمائیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 544 سے ماخوذ ہے۔