کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: جو شخص بغیر علم کے فتویٰ دے، اس کا گناہ اسی پر ہوگا جس نے فتویٰ دیا۔
أخبرنا أبو محمد عبد الله بن محمد بن إسحاق الفاكِهي بمكة، حدثنا أبو يحيى بن أبي مَسَرّة، حدثنا أبو عبد الرحمن المقرئ، حدثنا سعيد بن أبي أيوب، عن بكر بن عَمْرو، عن مسلم بن يَسَار، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "مَن أَفتى الناسَ بغير عِلْم، كان إثمُه على من أَفتاه" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، ولا أعرفُ له عِلَّة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 436 - على شرطهما ولا أعرف له علة
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، ولا أعرفُ له عِلَّة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 436 - على شرطهما ولا أعرف له علة
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے علم کے بغیر لوگوں کو فتویٰ دیا، اس کا گناہ فتویٰ دینے والے پر ہوگا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور مجھے اس میں کوئی علت معلوم نہیں ہوتی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور مجھے اس میں کوئی علت معلوم نہیں ہوتی۔
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا العباس بن الفضل الأَسْفاطي، حدثنا أبو الوليد، حدثنا همَّام، عن زيد بن أسلم، عن عطاء بن يَسَار، عن أبي سعيد الخُدْري، أنَّ النبي ﷺ قال: "لا تَكتُبوا عني شيئًا سِوَى القرآن، ومَن كَتَبَ عني شيئًا سوى القرآن فليَمْحُه" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد تقدّم (3) أخبار عبد الله بن عمرو في إجازة الكتابة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 437 - على شرطهما
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد تقدّم (3) أخبار عبد الله بن عمرو في إجازة الكتابة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 437 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مجھ سے قرآن کے سوا کچھ نہ لکھو، اور جس نے قرآن کے علاوہ مجھ سے کچھ لکھا ہو وہ اسے مٹا دے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی احادیث میں کتابت کی اجازت کا تذکرہ پہلے گزر چکا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی احادیث میں کتابت کی اجازت کا تذکرہ پہلے گزر چکا ہے۔