کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: رسولُ اللہ ﷺ کے زمانے میں لوگ جھوٹ نہیں بولا کرتے تھے۔
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا بشر بن موسى، حدثنا محمد بن سالم المفلوج (1)، حدثنا إبراهيم بن يوسف بن أبي إسحاق، عن أبيه، عن أبي إسحاق (2)، عن البَرَاء قال: ليس كلُّنا سمع حديثَ رسول الله ﷺ، كانت لنا ضَيْعَةٌ وأشغالٌ، ولكنَّ الناس كانوا لا يَكذِبون يومئذٍ، فيحدِّثُ الشاهدُ الغائبَ (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، ومحمد بن سالم وابنه عبد الله محتَجٌّ بهما! فأما صحيفة إبراهيم بن يوسف بن أبي إسحاق فقد أخرجها البخاريُّ في "الجامع الصحيح".
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 438 - على شرطهما
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، ومحمد بن سالم وابنه عبد الله محتَجٌّ بهما! فأما صحيفة إبراهيم بن يوسف بن أبي إسحاق فقد أخرجها البخاريُّ في "الجامع الصحيح".
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 438 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”ہم میں سے ہر ایک نے (براہِ راست) رسول اللہ ﷺ سے حدیث نہیں سنی، ہماری اپنی زمینیں اور مصروفیات تھیں، لیکن لوگ ان دنوں جھوٹ نہیں بولتے تھے، چنانچہ حاضر (جو مجلس میں ہوتا) غائب کو حدیث سنا دیا کرتا تھا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ محمد بن سالم اور ان کے بیٹے عبداللہ سے احتجاج کیا گیا ہے، اور ابراہیم بن یوسف کے صحیفے کو امام بخاری نے اپنی ”صحیح“ میں شامل کیا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ محمد بن سالم اور ان کے بیٹے عبداللہ سے احتجاج کیا گیا ہے، اور ابراہیم بن یوسف کے صحیفے کو امام بخاری نے اپنی ”صحیح“ میں شامل کیا ہے۔
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ، حدثنا محمد بن عيسى بن السَّكَن الواسطي، حدثنا عَمْرو بن عَوْن، حدثنا سفيان، عن عبيد الله بن أبي يزيد قال: كان ابن عباس إذا سُئِلَ عن شيءٍ فكان في كتاب الله، قال به، فإن لم يكن في كتاب الله وكان من رسول الله ﷺ فيه شيءٌ، قال به فإن لم يكن عن رسول الله ﷺ فيه شيءٌ، قال بما قال به أبو بكر وعمر، فإن لم يكن لأبي بكر وعمر فيه شيء، قال برأْيةِ (4).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين وفيه توقيف، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 439 - على شرطهما
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين وفيه توقيف، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 439 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر
عبید اللہ بن ابی یزید سے مروی ہے کہ جب سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کسی چیز کے بارے میں پوچھا جاتا اور وہ کتاب اللہ میں ہوتی تو آپ اسی کے مطابق فتویٰ دیتے، اگر کتاب اللہ میں نہ ہوتی اور رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں کچھ مروی ہوتا تو وہ بیان فرماتے، اگر وہاں بھی نہ ہوتا تو جو ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا ہوتا وہ بتاتے، اور اگر ان حضرات سے بھی کچھ نہ ملتا تو اپنی رائے (اجتہاد) سے جواب دیتے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے جس میں فہم و فراست کی رہنمائی موجود ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے جس میں فہم و فراست کی رہنمائی موجود ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔