المستدرك على الصحيحين
كتاب العلم— علم کا بیان
الْأَمْرُ بِتَوْقِيرِ الْعَالِمِ باب: عالم کی تعظیم و احترام کا حکم۔
حدیث نمبر: 419
أخبرنا أبو الحسن ميمون بن إسحاق الهاشمي ببغداد، حدثنا أحمد بن عبد الجبار العُطَارِدي، حدثنا أبو معاوية، حدثنا الأعمش، عن المِنْهال بن عمرو، عن زاذانَ، عن البَرَاء بن عازِب: قال خرجنا مع رسول الله ﷺ في جنازةِ رجلٍ من الأنصار، فانتهينا إلى القبر ولمَّا يُلحَدْ، فجَلَسَ رسولُ الله ﷺ وجلسنا حولَه كأنَّ على رؤوسِنا الطيرَ، وذَكَرَ الحديث (1). قد ثبت صحَّةُ هذا الحديث في كتاب الإيمان، وأنهما لم يخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک انصاری شخص کے جنازے میں نکلے، ہم قبر کے پاس پہنچے تو ابھی لحد تیار نہیں تھی، چنانچہ رسول اللہ ﷺ بیٹھ گئے اور ہم آپ کے گرد (ایسے ادب و سکون سے) بیٹھ گئے گویا ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں (کہ ذرا سی حرکت سے اڑ جائیں گے)۔
یہ حدیث کتاب الایمان میں صحیح ثابت ہو چکی ہے، اگرچہ شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل أحمد بن عبد الجبار. وقد سلف الحديث في كتاب الإيمان برقم (107).
درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے، اور اس کی سند احمد بن عبد الجبار کی وجہ سے "حسن" ہے۔
اہم نکتہ: یہ حدیث پہلے "کتاب الایمان" میں نمبر (107) پر گزر چکی ہے۔
درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے، اور اس کی سند احمد بن عبد الجبار کی وجہ سے "حسن" ہے۔
اہم نکتہ: یہ حدیث پہلے "کتاب الایمان" میں نمبر (107) پر گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 419 سے ماخوذ ہے۔