کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: تم میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑو۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّورِي، حدثنا أبو عاصم، حدثنا ثَوْر بن يزيد، حدثنا خالد بن مَعْدان، عن عبد الرحمن بن عمرو السُّلَمي، عن العِرْباض بن سارِيَة قال: صلَّى لنا رسول الله ﷺ صلاةَ الصبح، ثم أقبلَ علينا فوَعَظَنا مَوعِظةً وَجِلَت منها القلوب، وذَرَفَت منها العيون، فقلنا: يا رسول الله، كأنها موعظةُ مُودِّعٍ، فأَوصِنا، قال: "أُوصِيكُم بتقوى الله والسمعِ والطاعةِ وإنْ أُمّرَ عليكم عبدٌ (1)، فإنه من يَعِشْ منكم فسيَرى اختلافًا كثيرًا، فعليكم بسُنَّتي وسُنَّةِ الخلفاءِ الراشدين المهديِّين، عَضُّوا عليها بالنَّواجِذ، وإياكم ومُحدَثاتِ الأمور، فإنَّ كلَّ بِدْعةٍ ضلالةٌ" (2).
هذا حديث صحيح ليس له علَّة، وقد احتَجَّ البخاريُّ بعبد الرحمن بن عمرو وثَوْر بن يزيد، وروى هذا الحديث في أول كتاب الاعتصام بالسُّنة (3)، والذي عندي أنهما رحمهما الله توهما أنه ليس له راوٍ عن خالد بن مَعْدانَ غير ثور بن يزيد، وقد رواه محمد بن إبراهيم بن الحارث المخرَّج حديثُه في "الصحيحين" عن خالد بن مَعْدان:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 329 - صحيح ليس له علة
هذا حديث صحيح ليس له علَّة، وقد احتَجَّ البخاريُّ بعبد الرحمن بن عمرو وثَوْر بن يزيد، وروى هذا الحديث في أول كتاب الاعتصام بالسُّنة (3)، والذي عندي أنهما رحمهما الله توهما أنه ليس له راوٍ عن خالد بن مَعْدانَ غير ثور بن يزيد، وقد رواه محمد بن إبراهيم بن الحارث المخرَّج حديثُه في "الصحيحين" عن خالد بن مَعْدان:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 329 - صحيح ليس له علة
حافظ طلحہ بابر
سیدنا العرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی، پھر ہماری طرف رخِ مبارک کر کے ہمیں ایسا رقت آمیز وعظ فرمایا جس سے دل لرز گئے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے، ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے یہ کسی رخصت ہونے والے کا وعظ ہو، لہٰذا ہمیں کوئی وصیت فرمائیے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہیں اللہ سے ڈرنے، اور (حکمران کی بات) سننے اور اطاعت کرنے کی وصیت کرتا ہوں اگرچہ تم پر کوئی غلام ہی امیر کیوں نہ بنا دیا جائے، کیونکہ جو تم میں سے (میرے بعد) زندہ رہے گا وہ بہت سے اختلافات دیکھے گا، تو تم میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑ لینا، اسے اپنی ڈاڑھوں کے ساتھ مضبوطی سے تھام لینا، اور (دین میں) نئی پیدا شدہ باتوں سے بچنا کیونکہ ہر بدعت گمراہی ہے۔“
یہ حدیث صحیح ہے اور اس میں کوئی علت نہیں، امام بخاری نے عبدالرحمن بن عمرو اور ثور بن یزید سے احتجاج کیا ہے اور اس حدیث کو اپنی کتاب الاعتصام بالسنۃ کے شروع میں ذکر کیا ہے، اور میرے نزدیک ان دونوں (امام بخاری و مسلم) کو یہ وہم ہوا کہ خالد بن معدان سے ثور بن یزید کے علاوہ کوئی اور راوی نہیں ہے، حالانکہ اسے محمد بن ابراہیم بن حارث نے بھی خالد بن معدان سے روایت کیا ہے جن کی حدیث شیخین میں موجود ہے۔
یہ حدیث صحیح ہے اور اس میں کوئی علت نہیں، امام بخاری نے عبدالرحمن بن عمرو اور ثور بن یزید سے احتجاج کیا ہے اور اس حدیث کو اپنی کتاب الاعتصام بالسنۃ کے شروع میں ذکر کیا ہے، اور میرے نزدیک ان دونوں (امام بخاری و مسلم) کو یہ وہم ہوا کہ خالد بن معدان سے ثور بن یزید کے علاوہ کوئی اور راوی نہیں ہے، حالانکہ اسے محمد بن ابراہیم بن حارث نے بھی خالد بن معدان سے روایت کیا ہے جن کی حدیث شیخین میں موجود ہے۔
حدَّثَناه أبو عبد الله الحسين بن الحسن بن أيوب، حدثنا أبو حاتم محمد ابن إدريس الحَنظَلي، حدثنا عبد الله بن يوسف التِّنِّيسي، حدثنا الليث، عن يزيد بن الهاد، عن محمد بن إبراهيم، عن خالد بن مَعْدانَ، عن عبد الرحمن بن عمرو، عن العِرْباض بن ساريةَ، من بني سُلَيم من أهل الصُّفّة، قال: خَرَجَ علينا رسولُ الله ﷺ يومًا فقام فوَعَظَ الناس، ورغَّبهم وحذَّرهم، وقال ما شاء اللهُ أن يقول، ثم قال: "اعبُدوا اللهَ ولا تُشركوا به شيئًا، وأَطِيعوا مَن وَلَّاه اللهُ أمرَكم، ولا تُنازِعُوا الأمرَ أهلَه ولو كان عبدًا أسودَ، وعليكم بما تَعرِفون من سُنَّة نبيِّكم والخُلفاءِ الراشدين المهديِّين، وعَضُّوا على نَواجِذِكم بالحق" (1). هذا إسناد صحيح على شرطهما جميعًا، ولا أعرفُ له علَّةً. وقد تابع ضَمْرةُ بنُ حبيب خالدَ بنَ مَعْدانَ على رواية هذا الحديث عن عبد الرحمن بن عمرو السُّلَمي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 330 - على شرطهما ولا أعرف له علة
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 330 - على شرطهما ولا أعرف له علة
حافظ طلحہ بابر
سیدنا العرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ (جو کہ بنو سلیم سے تھے اور اہل صفہ میں شامل تھے) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن ہمارے پاس تشریف لائے اور لوگوں کو وعظ فرمایا جس میں رغبت بھی دلائی اور (برے انجام سے) ڈرایا بھی، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، اور اس شخص کی اطاعت کرو جسے اللہ تمہارے معاملے کا ذمہ دار بنا دے، اور صاحبِ اقتدار سے اقتدار کے معاملے میں جھگڑا نہ کرو اگرچہ وہ کوئی حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو، اور تم پر لازم ہے کہ اپنے نبی کی سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کے طریقے کو پہچانو اور اس حق پر اپنی ڈاڑھوں کے ساتھ مضبوطی سے قائم رہو۔“
یہ اسناد شیخین کی شرط پر صحیح ہے اور مجھے اس میں کوئی علت معلوم نہیں ہوتی۔
یہ اسناد شیخین کی شرط پر صحیح ہے اور مجھے اس میں کوئی علت معلوم نہیں ہوتی۔
حدَّثَناه أبو الحسن أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي. وأخبرنا أبو بكر محمد بن المؤمَّل، حدثنا الفضل بن محمد؛ قالا: حدثنا أبو صالح، عن معاوية بن صالح. وأخبرنا أبو بكر أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حَنبَل، حدثني أَبي، حدثنا عبد الرحمن - يعني ابن مَهدِي - عن معاوية بن صالح، عن ضَمْرة بن حَبيب، عن عبد الرحمن بن عمرو السُّلَمي، أنه سمع العِرباضَ بن ساريةَ قال: وَعَظَنا رسولُ الله ﷺ مَوعِظةً ذَرَفَت منها العيون، ووَجِلَت منها القلوب، فقلنا: يا رسول الله، إنَّ هذا لموعظةُ مودِّع، فماذا تَعهَدُ إلينا، قال: "قد تَركتُكم على البيضاءِ ليلِها كنهارِها، لا يَزيغُ عنها بعدي إلّا هالك، ومَن يَعِشْ منكم فسَيَرى اختلافًا كثيرًا، فعليكم بما عرفتُم من سُنَّتي وسُنَّةِ الخلفاءِ المهديِّين الراشدين من بعدي، وعليكم بالطاعة وإنْ عبدًا حبشيًّا، عَضُّوا عليها بالنَّواجِذ" (1). فكان أسدُ بن وَدَاعةَ يزيد في هذا الحديث: "فإنَّ المؤمن كالجَمَل الأَنِفِ، حيثما قِيدَ انقاد" (2). وقد تابع عبدَ الرحمن بنَ عمرو على روايته عن العِرْباض بن ساريةَ ثلاثةٌ من الثّقات الأثبات من أئمة أهل الشام، منهم حُجْر بن حُجر الكَلَاعي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 331 - سكت عنه الذهبي في التلخيص_x000D_ مِنْهُمْ حُجْرُ بْنُ حُجْرٍ الْكَلَاعِيُّ
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 331 - سكت عنه الذهبي في التلخيص_x000D_ مِنْهُمْ حُجْرُ بْنُ حُجْرٍ الْكَلَاعِيُّ
حافظ طلحہ بابر
سیدنا العرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایسا وعظ فرمایا کہ آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے اور دل کانپ اٹھے، ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ تو کسی رخصت ہونے والے کی نصیحت لگتی ہے، آپ ہمیں کیا عہد فرماتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے تمہیں ایک ایسے روشن راستے (اسلام) پر چھوڑا ہے جس کی رات بھی دن کی طرح (واضح) ہے، میرے بعد اس سے صرف وہی ہٹے گا جو ہلاک ہونے والا ہوگا، اور تم میں سے جو زندہ رہے گا وہ بہت سے اختلافات دیکھے گا، پس تم پر لازم ہے کہ میری سنت اور میرے بعد آنے والے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کے طریقے کی پیروی کرو جسے تم پہچانتے ہو، اور اطاعت کو لازم پکڑو اگرچہ وہ حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو، اسے اپنی ڈاڑھوں سے مضبوطی سے تھام لو۔“ اس حدیث میں اسد بن وداعہ یہ اضافہ کرتے تھے کہ ”بے شک مومن اس اونٹ کی طرح ہے جس کی ناک میں نکیل ہو، جہاں اسے لے جایا جائے وہ وہیں چلا جاتا ہے۔“
حدَّثَناه أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم العَبْدي، حدثنا موسى بن أيوب النَّصِيبي وصفوان بن صالح الدِّمشقي قالا: حدثنا الوليد بن مسلم الدمشقي، حدثنا ثَوْر بن يزيد، حدثني خالد بن مَعْدان، حدثني عبد الرحمن بن عمرو السُّلَمي وحُجْر بن حُجْر الكَلَاعي قالا: أتينا العِرباضَ بن ساريةَ، وهو ممَّن نَزَلَ فيه: ﴿وَلَا عَلَى الَّذِينَ إِذَا مَا أَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ تَوَلَّوْا وَأَعْيُنُهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا أَلَّا يَجِدُوا مَا يُنْفِقُونَ﴾ [التوبة: 92]، فسلَّمْنا وقلنا: أتيناك زائرينَ ومُقتبسِين، فقال العرباضُ: صلَّى بنا رسول الله ﷺ الصبحَ ذات يومٍ، ثم أقبَلَ علينا فوعَظَنا موعظةً بليغةً، ذَرَفَت منها العيون، ووَجِلَت منها القلوب، فقال قائل: يا رسول الله، كأنها موعظةُ مُودِّع، فما تَعهَدُ إلينا، فقال: "أُوصِيكُم بتقوى الله والسَّمع والطاعة، وإنْ عبدًا حَبَشيًّا، فإنه مَن يَعِشْ منكم فسيرى اختلافًا كثيرًا، فعليكم بسُنَّتي وسُنَّة الخُلفاء الراشدين المَهديِّين، فتمسَّكُوا بها، وعَضُّوا عليها بالنَّواجِذ، وإيَّاكم ومُحدَثاتِ الأُمور، فإنَّ كل محدَثةٍ بدعةً، وكلَّ بدعةٍ ضلالةٌ" (1). ومنهم يحيى بن أبي المُطاع القرشي:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا العرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ، جن کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تھی: ﴿وَلَا عَلَى الَّذِينَ إِذَا مَا أَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ تَوَلَّوْا وَأَعْيُنُهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا أَلَّا يَجِدُوا مَا يُنْفِقُونَ﴾ ”اور نہ ان لوگوں پر (کوئی گناہ ہے) کہ جب وہ آپ کے پاس آئے کہ آپ ان کے لیے سواری کا انتظام کریں اور آپ نے کہا کہ میرے پاس کوئی چیز نہیں جس پر تمہیں سوار کروں، تو وہ اس حال میں واپس لوٹے کہ ان کی آنکھیں غم کی وجہ سے آنسو بہا رہی تھیں کہ وہ (جہاد میں) خرچ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے“ [سورة التوبة: 92]، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن ہمیں صبح کی نماز پڑھائی اور پھر ہمیں نہایت بلیغ وعظ فرمایا جس سے آنکھیں اشکبار ہو گئیں اور دل دہل گئے، کسی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایسا لگتا ہے جیسے یہ کسی رخصت ہونے والے کا وعظ ہو، آپ ہمیں کیا وصیت فرماتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہیں تقویٰ الہی اور (حکمران کی بات) سننے اور ماننے کی وصیت کرتا ہوں اگرچہ وہ حبشی غلام ہی ہو، کیونکہ تم میں سے جو جئے گا وہ شدید اختلافات دیکھے گا، پس تم میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کے طریقے پر کاربند رہنا، اسے مضبوطی سے پکڑ لینا اور اسے ڈاڑھوں سے تھام لینا، اور دین میں نئے کاموں سے بچنا کیونکہ ہر نئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔“