حدیث نمبر: 337
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عيسى بن زيد التِّنِّيسي، حدثنا عمرو بن أبي سَلَمة التِّنِّيسي، أخبرنا عبد الله بن العلاء بن زَبْر، عن يحيى بن أبي المُطاع قال: سمعتُ العِرباضَ بن ساريةَ السُّلَمي يقول: قامَ فينا رسول الله ﷺ ذاتَ غَدَاةٍ فوَعَظَنا موعظةً وَجِلَت منها القلوب، وذَرَفَت منها الأعيُن، قال: فقلنا: يا رسول الله، قد وَعَظْتَنا موعظةَ مودِّع، فاعهَدْ إلينا، قال: "عليكم بتَقوَى الله"، أظنه قال: "والسَّمعِ والطاعة، وسيَرى مَن بعدي اختلافًا شديدًا - أو كثيرًا - فعليكم بسُنَّتي وسُنَّة الخلفاءِ المهديِّين، عَضُّوا عليها بالنَّواجِذ، وإيَّاكم والمُحدَثاتِ، فإنَّ كلَّ بِدْعةٍ ضلالةٌ" (2). ومنهم مَعبَد بن عبد الله بن هشام القُرشي (1)، وليس الطريق إليه من شرط هذا الكتاب، فتركتُه. وقد استقصَيتُ في تصحيح هذا الحديث بعضَ الاستقصاءِ على ما أدَّى إليه اجتهادي، وكنت فيه، كما قال إمامُ أئمة الحديث شُعْبةُ في حديث عبد الله بن عطاء عن عُقْبة بن عامر لمّا طلبه بالبصرة والكوفة والمدينة ومكة، ثم عاد الحديثُ إلى شَهْر بن حَوشَب فتركه، ثم قال شعبةُ: لَأن يَصِحَّ لي مثلُ هذا عن رسول الله ﷺ، كان أحبَّ إلي من والدي ووَلَدي والناس أجمعين. وقد صحَّ هذا الحديثُ. والحمد لله وصلَّى الله على محمدٍ وآله أجمعين.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا العرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک صبح ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور ہمیں ایسا وعظ فرمایا جس سے دل لرز گئے اور آنکھیں بہہ نکلیں، ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے رخصت ہونے والے جیسا وعظ فرمایا ہے، لہٰذا ہمیں کوئی نصیحت کیجئے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم پر اللہ کا تقویٰ لازم ہے“، میرا خیال ہے کہ آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ ”اور (امیر کی بات) سننا اور ماننا، اور میرے بعد لوگ شدید اختلافات دیکھیں گے، تو تم میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو تھام لینا، اسے ڈاڑھوں سے مضبوطی سے پکڑ لینا، اور نئی باتوں سے بچنا کیونکہ ہر بدعت گمراہی ہے۔“
میں نے اپنے اجتہاد کے مطابق اس حدیث کی تصحیح میں پوری کوشش کی ہے، اور میرا اس بارے میں وہی حال ہے جو امام شعبہ کا اس حدیث کے بارے میں تھا جسے انہوں نے بصرہ، کوفہ، مدینہ اور مکہ میں تلاش کیا اور پھر فرمایا: اگر میرے لیے رسول اللہ ﷺ سے ایسی حدیث ثابت ہو جائے تو یہ مجھے میرے والدین، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب ہے۔ اور یقیناً یہ حدیث صحیح ثابت ہو چکی ہے، والحمد للہ۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب العلم / حدیث: 337
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح بما قبله
تخریج حدیث «حديث صحيح بما قبله، وهذا إسناد ضعيف لضعف أحمد بن عيسى التنيسي، لكن الحديث روي من غير طريق عن عبد الله بن العلاء بن زبر، فقد أخرجه ابن ماجه (42) عن عبد الله بن أحمد بن بشير الدمشقي، عن الوليد بن مسلم، عن عبد الله بن العلاء به، والإسناد من ...» [ترقيم الرساله 337] [ترقيم الشركة 332]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) حديث صحيح بما قبله، وهذا إسناد ضعيف لضعف أحمد بن عيسى التنيسي، لكن الحديث روي من غير طريق عن عبد الله بن العلاء بن زبر، فقد أخرجه ابن ماجه (42) عن عبد الله بن أحمد بن بشير الدمشقي، عن الوليد بن مسلم، عن عبد الله بن العلاء به، والإسناد من هذا الوجه جيد إن صحَّ سماع يحيى بن أبي المطاع من العرباض بن سارية، فقد تُكلِّم فيه كما هو مبيَّن في تعليقنا على "سنن ابن ماجه".
درجۂ حدیث: ماقبل کی روایات کی وجہ سے یہ "صحیح" ہے، لیکن یہ مخصوص سند احمد بن عیسیٰ التِنیسی کی وجہ سے "ضعیف" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: یہ حدیث عبد اللہ بن العلاء بن زِبر سے دیگر طرق سے بھی مروی ہے (دیکھیے: ابن ماجہ 42)۔ اس لحاظ سے سند جید ہو جاتی ہے بشرطیکہ یحییٰ بن ابی المطاع کا سماع حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے ثابت ہو، جس میں کلام کیا گیا ہے جیسا کہ سنن ابن ماجہ کے حواشی میں تفصیل موجود ہے۔
(1) لم نقف عليه مسندًا في شيء من المصادر التي بين أيدينا.
فنی نکتہ / علّت: دستیاب مصادر میں ہمیں اس روایت کا سراغ مسند (سلسلۂ سند کے ساتھ) نہیں مل سکا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 337 سے ماخوذ ہے۔