حدیث نمبر: 334
حدَّثَناه أبو عبد الله الحسين بن الحسن بن أيوب، حدثنا أبو حاتم محمد ابن إدريس الحَنظَلي، حدثنا عبد الله بن يوسف التِّنِّيسي، حدثنا الليث، عن يزيد بن الهاد، عن محمد بن إبراهيم، عن خالد بن مَعْدانَ، عن عبد الرحمن بن عمرو، عن العِرْباض بن ساريةَ، من بني سُلَيم من أهل الصُّفّة، قال: خَرَجَ علينا رسولُ الله ﷺ يومًا فقام فوَعَظَ الناس، ورغَّبهم وحذَّرهم، وقال ما شاء اللهُ أن يقول، ثم قال: "اعبُدوا اللهَ ولا تُشركوا به شيئًا، وأَطِيعوا مَن وَلَّاه اللهُ أمرَكم، ولا تُنازِعُوا الأمرَ أهلَه ولو كان عبدًا أسودَ، وعليكم بما تَعرِفون من سُنَّة نبيِّكم والخُلفاءِ الراشدين المهديِّين، وعَضُّوا على نَواجِذِكم بالحق" (1). هذا إسناد صحيح على شرطهما جميعًا، ولا أعرفُ له علَّةً. وقد تابع ضَمْرةُ بنُ حبيب خالدَ بنَ مَعْدانَ على رواية هذا الحديث عن عبد الرحمن بن عمرو السُّلَمي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 330 - على شرطهما ولا أعرف له علة
حافظ طلحہ بابر

سیدنا العرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ (جو کہ بنو سلیم سے تھے اور اہل صفہ میں شامل تھے) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن ہمارے پاس تشریف لائے اور لوگوں کو وعظ فرمایا جس میں رغبت بھی دلائی اور (برے انجام سے) ڈرایا بھی، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، اور اس شخص کی اطاعت کرو جسے اللہ تمہارے معاملے کا ذمہ دار بنا دے، اور صاحبِ اقتدار سے اقتدار کے معاملے میں جھگڑا نہ کرو اگرچہ وہ کوئی حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو، اور تم پر لازم ہے کہ اپنے نبی کی سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کے طریقے کو پہچانو اور اس حق پر اپنی ڈاڑھوں کے ساتھ مضبوطی سے قائم رہو۔“
یہ اسناد شیخین کی شرط پر صحیح ہے اور مجھے اس میں کوئی علت معلوم نہیں ہوتی۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب العلم / حدیث: 334
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح» [ترقيم الرساله 334] [ترقيم الشركة 329] [ترقيم العلميه 330]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح. وإسناده حسن كسابقه.
درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے اور اس کی یہ سند پچھلی سند کی طرح "حسن" ہے۔
وقد خالف يزيدَ بن الهاد يحيى بنُ أبي كثير عند أحمد 28/ (17147) فرواه عن خالد بن معدان عن عبد الله بن أبي بلال عن العرباض بن سارية. وابن أبي بلال هذا مجهول تفرَّد بالرواية عنه محمد بن إبراهيم.
فنی نکتہ / علّت: یحییٰ بن ابی کثیر نے یزید بن الہاد کی مخالفت کی ہے (دیکھیے: مسند احمد 28/ 17147) اور اسے خالد بن معدان عن عبد اللہ بن ابی بلال عن العرباض بن ساریہ کی سند سے روایت کیا ہے۔ یہ عبد اللہ بن ابی بلال "مجہول" راوی ہے جس سے روایت کرنے میں محمد بن ابراہیم تنہا ہیں۔
وتابعه على هذه الرواية بَحير بن سعد في إحدى الروايتين عنه عند أحمد أيضًا (17146) فقال: عن خالد بن معدان عن ابن أبي بلال عن العرباض.
متابعات و شواہد: بحیر بن سعد نے اپنی دو روایتوں میں سے ایک میں (جو مسند احمد 17146 میں ہے) اس کی متابعت کی ہے، چنانچہ انہوں نے بھی خالد بن معدان عن ابن ابی بلال عن العرباض کی سند بیان کی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 334 سے ماخوذ ہے۔