کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: علم کی فضیلت عبادت کی فضیلت سے زیادہ محبوب ہے، اور بہترین دین پرہیزگاری ہے۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفَّان العامِري، حدثنا خالد بن مَخلَد القَطَواني، حدثنا حمزة بن حبيب الزَّيّات، عن الأعمش، عن الحَكَم، عن مُصعَب بن سعد بن أبي وقَّاص، عن أبيه، عن النبي ﷺ قال: "فَضْلُ العلم أحبُّ إليَّ من فَضْلِ العبادة، وخيرُ دِينِكم الوَرَعُ" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا مصعب بن سعد اپنے والد (سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) سے اور وہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”علم کی فضیلت مجھے عبادت کی فضیلت سے زیادہ محبوب ہے، اور تمہارے دین کی بہترین خصلت تقویٰ و پرہیزگاری (ورع) ہے۔“
وحدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إبراهيم بن إسحاق السَّرّاج، حدثنا محمد بن عبد الله بن نُمَير، حدثنا خالد بن مَخلَد، عن حمزة الزَّيَّات، عن الأعمش، عن مصعب بن سعد، فذكر بنحوه، ولم يَذكُر الحَكَم (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، والحسن بن علي بن عفّان ثقة، وقد أقام الإسناد، وقد أبهَمَه بكرُ بن بكَّار:
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، والحسن بن علي بن عفّان ثقة، وقد أقام الإسناد، وقد أبهَمَه بكرُ بن بكَّار:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”علم کی فضیلت مجھے عبادت کی فضیلت سے زیادہ پیاری ہے...“ (سابقہ حدیث کے مثل)۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، حسن بن علی بن عفان ثقہ ہیں اور انہوں نے اسناد کو درست بیان کیا ہے، جبکہ بکر بن بکار نے اسے مبہم (غیر واضح) کر دیا تھا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، حسن بن علی بن عفان ثقہ ہیں اور انہوں نے اسناد کو درست بیان کیا ہے، جبکہ بکر بن بکار نے اسے مبہم (غیر واضح) کر دیا تھا۔
حدَّثَناه أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا إبراهيم بن محمد بن يحيى بن مَندَهْ الأصبهاني، حدثنا إبراهيم بن سَعْدان وأحمد بن عبد الواحد قالا: حدثنا بكر بن بكَّار، حدثنا حمزة الزيَّات، حدثنا الأعمش، عن رجل، عن مُصعَب بن سعد، عن أبيه، أنَّ رسول الله ﷺ قال نحوه (1). ثم نظرنا فوجدنا خالد بن مخلد أثبتَ وأحفظَ وأوثقَ من بكر بن بكار فحكمنا له بالزيادة. وقد رواه عبد الله بن عبد القُدُّوس عن الأعمش بإسناد آخر:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 314 - على شرطهما
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 314 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر
سیدنا مصعب بن سعد اپنے والد (سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اسی طرح (سابقہ حدیث کے مانند) ارشاد فرمایا۔
ہم نے جب غور کیا تو خالد بن مخلد کو بکر بن بکار کے مقابلے میں زیادہ پختہ، حافظ اور معتبر پایا، اس لیے ہم نے ان کی بیان کردہ زیادتی (سند میں اضافہ) کا فیصلہ دیا۔ نیز عبداللہ بن عبدالقدوس نے بھی اسے اعمش سے ایک دوسری سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
ہم نے جب غور کیا تو خالد بن مخلد کو بکر بن بکار کے مقابلے میں زیادہ پختہ، حافظ اور معتبر پایا، اس لیے ہم نے ان کی بیان کردہ زیادتی (سند میں اضافہ) کا فیصلہ دیا۔ نیز عبداللہ بن عبدالقدوس نے بھی اسے اعمش سے ایک دوسری سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
حدَّثَناه أبو علي الحافظ، حدثنا الهيثم بن خلف الدُّوري، حدثنا عبَّاد بن يعقوب، حدثنا عبد الله بن عبد القُدوس، عن الأعمش، عن مطرِّف بن الشِّخِّير، عن حُذَيفة قال: قال رسول الله ﷺ: "فضلُ العلم خيرٌ من فضلِ العبادة، وخيرُ دِينِكم الوَرَعُ" (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”علم کی فضیلت عبادت کی فضیلت سے بہتر ہے، اور تمہارے دین کی بہترین خصلت تقویٰ و پرہیزگاری ہے۔“