کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: رسولُ اللہ ﷺ کے حوضِ کوثر کی صفت اور قیامت کی نشانیوں کا ذکر۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو البَختَريّ عبد الله بن محمد بن شاكر، حدثنا أبو أسامة، حدثني الحسين المعلِّم. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي - واللفظ له - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا ابن أبي عَدِيّ، عن حسين المعلِّم، عن عبد الله بن بُرَيدة قال: ذُكِرَ لي أنَّ أبا سَبْرةَ بن سَلَمة الهُذَلي سمع ابنَ زياد يسأل عن الحوضِ، حوضِ محمدٍ ﷺ، فقال: ما أُراه حقًّا، بعدما سأل أبا بَرْزةَ الأسلمي والبراءَ بن عازب وعائذَ بن عمرو، فقال: ما أُصدِّق هؤلاء، فقال أبو سَبْرة: ألا أحدِّثُك بحديث شِفاءٍ، بَعَثَني أبوك بمالٍ إلى معاوية، فلَقِيتُ عبدَ الله بن عمرو، فحدَّثني بفِيهِ وكتبتُه بقلمي ما سمعه من رسول الله ﷺ، فلم أَزِدْ حرفًا ولم أَنقُصْ، حدَّثني أنَّ رسول الله ﷺ قال: "إنَّ الله لا يحبُّ الفاحشَ ولا المتفحِّشَ، والذي نفسُ محمد بيده لا تقومُ الساعةُ حتى يَظهَرَ الفُحْشُ والتفحُّشُ وقطيعةُ الرَّحِم وسوءُ المجاوَرة، ويُخوَّنُ الأمينُ ويُؤتمنُ الخائن، ومَثَلُ المؤمن كمَثَل النَّحْلة أَكَلَت طيّبًا ووَضَعَت طيّبًا ووَقَعَت طيّبًا، فلم تُفسِدْ ولم تَكسِرْ، ومَثَلُ العبد المؤمن مَثَلُ القِطْعة الجيِّدة من الذهب، نُفِخَ عليها فخرجت طيّبةً، ووُزِنَت فلم تَنقُصْ"، وقال ﷺ: "مَوعِدُكم حوضي، عَرْضُه مثلُ طولِه، وهو أبعدُ ممّا بينَ أَيْلةَ إلى مكة، وذاك مسيرةُ شهرٍ، فيه أمثالُ الكواكبِ أباريقُ، ماؤُه أشدُّ بياضًا من الفضَّة، مَن وَرَدَه وشَرِبَ منه لم يَظمَأْ بعده أبدًا". فقال ابن زياد: ما حدَّثني أحدٌ بحديثٍ مثلِ هذا، أشهَدُ أنَّ الحوض حقٌّ واجبٌ. وأخذ الصحيفةَ التي جاء بها أبو سَبْرة (1). وفي حديث أبي أسامة عن عبد الله بن بُرَيدة عن أبي سَبْرة.
هذا حديث صحيح، فقد اتَّفق الشيخانِ على الاحتجاج بجميع رُوَاته غير أبي سَبْرة الهُذَلي، وهو تابعيٌّ كبير، مبيَّن ذِكرُه في المسانيد والتواريخ، غيرُ مطعونٍ فيه. وله شاهد من حديث قَتَادة عن ابن بُرَيدة:
حافظ طلحہ بابر
عبداللہ بن بریدہ سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں: مجھے بتایا گیا کہ ابوسبرہ بن سلمہ ہذلی نے ابنِ زیاد کو حوضِ محمد ﷺ کے بارے میں سوال کرتے ہوئے سنا، تو ابنِ زیاد نے کہا: میں اسے برحق نہیں سمجھتا، حالانکہ وہ اس سے پہلے ابوبرزہ اسلمی، براء بن عازب اور عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہم سے پوچھ چکا تھا لیکن کہنے لگا: میں ان لوگوں کی تصدیق نہیں کرتا؛ تو ابوسبرہ نے کہا: کیا میں تمہیں ایسی حدیث نہ سناؤں جو (شک سے) شفا بخش دے؟ تمہارے والد نے مجھے مال دے کر امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا تھا، وہاں میری ملاقات عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے ہوئی، تو انہوں نے مجھے اپنی زبان سے یہ حدیث سنائی اور میں نے اپنے قلم سے اسے ویسے ہی لکھ لیا جیسا انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا تھا، میں نے اس میں ایک حرف کی بھی کمی بیشی نہیں کی؛ انہوں نے مجھے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ بدگوئی کرنے والے اور فحش بکنے والے کو پسند نہیں فرماتا، اور اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے! قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک فحش گوئی، بے حیائی، قطع رحمی اور پڑوسیوں سے برا سلوک عام نہ ہو جائے، امانت دار کو خائن اور خائن کو امانت دار سمجھا جانے لگے؛ اور مومن کی مثال شہد کی مکھی جیسی ہے کہ وہ ستھری چیز کھاتی ہے، ستھری چیز (شہد) نکالتی ہے اور ستھری جگہ پر بیٹھتی ہے، نہ وہ (پھول کو) خراب کرتی ہے اور نہ توڑتی ہے؛ اور مومن بندے کی مثال سونے کے اس عمدہ ٹکڑے جیسی ہے جسے (بھٹی میں) تپایا جائے تو وہ کھرا نکلتا ہے اور اگر اسے تولا جائے تو اس کے وزن میں کوئی کمی نہیں آتی“، اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے ملنے کی جگہ میرا حوض ہے، جس کی چوڑائی اس کی لمبائی کے برابر ہے، اور وہ اَیْلَہ سے مکہ کے درمیانی فاصلے سے بھی زیادہ وسیع ہے، یہ ایک ماہ کی مسافت ہے، اس پر ستاروں کی مانند چمکدار صراحیاں ہیں، اس کا پانی چاندی سے زیادہ سفید ہے، جو وہاں آئے گا اور اس سے ایک بار پی لے گا وہ اس کے بعد کبھی پیاسا نہیں ہو گا۔“ تو ابنِ زیاد نے کہا: مجھے کسی نے اس جیسی حدیث نہیں سنائی، میں گواہی دیتا ہوں کہ حوض برحق اور واجب ہے، پھر اس نے وہ صحیفہ لے لیا جو ابوسبرہ لائے تھے۔
یہ حدیث صحیح ہے، شیخین نے ابوسبرہ ہذلی کے علاوہ اس کے تمام راویوں سے احتجاج پر اتفاق کیا ہے، وہ ایک بڑے تابعی ہیں جن کا ذکر مسانید اور تاریخ کی کتب میں موجود ہے اور وہ غیر مطعون ہیں۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإيمان / حدیث: 255
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد قابل للتحسين إن كان عبد الله بن بريدة سمعه من أبي سبرة الهذلي، فإنَّ عامَّة من رواه عن حسين المعلّم - وكذا غيره عن ابن بريدة - قال فيه: عبد الله بن بريدة عن أبي سبرة، وانفرد ابن أبي عدي بصيغة: ذُكر لي أنَّ أبا سبرة- ...» [ترقيم الرساله 255] [ترقيم الشركة 253]
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا هشام بن علي، حدثنا عبد الله بن رَجَاء، حدثنا همَّام، عن قتادة، عن ابن بُرَيدة، عن أبي سَبْرة الهُذَلي، فذكر الحديث بطوله (2).
حافظ طلحہ بابر
ابوسبرہ ہذلی سے مروی ہے کہ انہوں نے یہی طویل حدیث ذکر فرمائی۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإيمان / حدیث: 256
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره كسابقه» [ترقيم الرساله 256] [ترقيم الشركة 254]
حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثني محمد بن المثنَّى، حدثنا رَوْح بن أسلمَ، حدثنا شدَّاد أبو طَلْحة، حدثنا أبو الوازع جابر بن عمرو الرَّاسِبي قال: سمعت أبا بَرْزةَ يقول: سمعت رسول الله ﷺ يقول: "حوضي ما بينَ أَيْلةَ إلى صنعاء عَرْضُه كطولِه، فيه مِيزابانِ يَصُبّانِ من الجنة، أحدُهما وَرِقٌ والآخر ذهبٌ، أحلى من العسل، وأبردُ من الثلج، وأشدُّ بياضًا من اللبن، وألْيَنُ من الزُّبْد، فيه أباريقُ عددَ نجوم السماء، مَن شَرِبَ منه لم يَظمَأْ حتى يدخلَ الجنة" (1). قال (2): وزاد فيه أيوب عن أبي الوازع عن أبي بَرْزة عن النبي ﷺ أنه قال: "تَنزُو في أيدي المؤمنين".
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فقد احتجَّ بحديثين عن أبي طلحة الراسبي عن أبي الوازع عن أبي بَرْزة، وهو غريب صحيح من حديث أيوب السَّختِياني عن أبي الوازع، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 255 - غريب صحيح على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”میرا حوض اَیْلَہ سے صنعاء کے درمیانی فاصلے (جتنا وسیع) ہے، اس کی چوڑائی اس کی لمبائی کے برابر ہے، اس میں جنت سے دو پرنالے گرتے ہیں، ایک چاندی کا اور دوسرا سونے کا ہے، اس کا پانی شہد سے زیادہ میٹھا، برف سے زیادہ ٹھنڈا، دودھ سے زیادہ سفید اور مکھن سے زیادہ نرم ہے، اس پر آسمان کے ستاروں کی تعداد کے برابر صراحیاں ہیں، جو اس میں سے پی لے گا اسے جنت میں داخل ہونے تک کبھی پیاس نہیں لگے گی۔“
راوی کہتے ہیں کہ ایوب نے اس روایت میں یہ اضافہ کیا ہے کہ: ”وہ (جام) مومنوں کے ہاتھوں میں خود بخود اچھل کر آئیں گے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، کیونکہ انہوں نے ابوطلحہ راسبی کی دو احادیث سے احتجاج کیا ہے، اور ایوب سختیانی کی یہ روایت غریب اور صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإيمان / حدیث: 257
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف روح بن أسلم، وقد توبع» [ترقيم الرساله 257] [ترقيم الشركة 255] [ترقيم العلميه 255]
أخبرني أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا محمد بن عبد الوهّاب، حدثنا عمَّار بن عبد الجبار، حدثنا شُعْبة. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شُعْبة، عن عمرو بن مُرَّة، عن أبي حمزة، عن زيد بن أرقمَ قال: قال رسول الله ﷺ: "ما أنتم جزءٌ من مئة ألفِ جزءٍ ممَّن يَرِدُ عليَّ الحوضَ". فسألوه: كم كنتم؟ قال: ثمان مئة أو تسع مئة (1). أبو حمزة الأنصاريُّ هذا: هو طلحة بن يزيد، وقد احتجَّ به البخاري.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم ان لوگوں کا لاکھواں حصہ بھی نہیں ہو جو حوض پر میرے پاس آئیں گے۔“ لوگوں نے ان سے پوچھا: (اس وقت) آپ لوگوں کی تعداد کتنی تھی؟ انہوں نے کہا: آٹھ سو یا نو سو۔
ابو حمزہ انصاری (طلحہ بن یزید) سے امام بخاری نے احتجاج کیا ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإيمان / حدیث: 258
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن، من أجل أبي حمزة - وهو طلحة بن يزيد الأنصاري مولاهم - وتضعيف هذا الإسناد به في "مسند أحمد" 32/ (19268) من أجل تفرُّد عمرو بن مرّة بالرواية عنه تعنُّت زائد، فإنه تابعي وثَّقه النسائي في "سننه الكبرى" بإثر حديث ابن مسعود في صوم ثلاثة أيام من غرّة ...» [ترقيم الرساله 258] [ترقيم الشركة 256]
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا أبو معاوية. وحدثنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا إبراهيم بن يوسف الهِسِنْجاني، حدثنا يوسف بن موسى، حدثنا جَرِير وأبو معاوية، عن الأعمش، عن عمرو بن مُرَّة، عن طلحة بن يزيد الأنصاري، قال: قال زيد بن أرقم: قال رسول الله ﷺ: "ما أنتم بجُزءٍ من مئةِ ألف جزءٍ ممَّن يَرِدُ عليَّ الحوضَ يومَ القيامة". قال: فقلنا لزيدٍ: كم كنتم يومئذٍ؟ قال: ما بينَ الستِّ مئةٍ إلى السَّبع مئة (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، ولكنهما تَرَكاهُ للخِلَاف الذي في متنهِ من العَدَد، والله أعلم. وله شاهد على شرط مسلم، عن زيد بن أرقمَ في ذِكْر الحوض بغير هذا اللفظ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 257 - لعلهما تركاه لاختلاف العدد
حافظ طلحہ بابر
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم قیامت کے دن حوض پر میرے پاس آنے والوں کا لاکھواں حصہ بھی نہیں ہو۔“ راوی کہتے ہیں کہ ہم نے زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا: اس دن آپ لوگ کتنے تھے؟ انہوں نے کہا: چھ سو سے سات سو کے درمیان۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور انہوں نے اسے اس لیے چھوڑا ہے کیونکہ اس کے متن میں تعداد کے حوالے سے اختلاف پایا جاتا ہے، واللہ اعلم۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإيمان / حدیث: 259
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن،كسابقه» [ترقيم الرساله 259] [ترقيم الشركة 257] [ترقيم العلميه 257]
أخبرَناه أبو الفضل الحَسَن بن يعقوب العَدْل، حدثنا محمد بن عبد الوهاب، حدثنا جعفر بن عَوْن، أخبرنا أبو حيَّان يحيى بن سعيد بن حيَّان التَّيْمِيُّ، تَيْمُ الرَّبَاب، حدثني يزيد بن حيَّان التَّيمي قال: شهدتُ زيدَ بن أرقمَ وبَعَثَ إليه عبيدُ الله بن زياد، فقال: ما أحاديثُ بَلَغَني عنك تحدِّث بها عن رسول الله ﷺ تَزعُم أنَّ له حوضًا في الجنة؟ فقال: حدثنا ذاك رسولُ الله ﷺ ووَعَدَناه، فقال: كذبتَ، ولكنك شيخ قد خَرِفتَ، قال: أمَا إنه سَمِعَتْه أُذناي من رسول الله ﷺ يعني - وسمعتُه يقول: "مَن كَذَبَ علي متعمِّدًا فليَتَبوَّأْ مقعدَه من النار"، وما كذبتُ على رسول الله ﷺ (1).
حافظ طلحہ بابر
یزید بن حیان تیمی سے روایت ہے کہ میں سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا جب عبیداللہ بن زیاد نے انہیں بلا بھیجا اور کہا: یہ کیسی حدیثیں ہیں جو مجھے آپ کے بارے میں پہنچی ہیں کہ آپ رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ جنت میں آپ ﷺ کا ایک حوض ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ہمیں رسول اللہ ﷺ نے یہ حدیث سنائی تھی اور اس کا وعدہ فرمایا تھا؛ تو اس نے کہا: آپ جھوٹ بولتے ہیں، آپ (زید بن ارقم) بوڑھے ہو کر سٹھیا گئے ہیں؛ زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بے شک میرے ان کانوں نے اسے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے اور میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا ہے کہ: ”جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھا وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے“، اور میں نے رسول اللہ ﷺ پر کبھی جھوٹ نہیں بولا۔
اس کا ایک شاہد امام مسلم کی شرط پر زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جس میں حوض کا ذکر ان الفاظ کے علاوہ ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإيمان / حدیث: 260
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 260] [ترقيم الشركة 258]