حدیث نمبر: 259
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا أبو معاوية. وحدثنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا إبراهيم بن يوسف الهِسِنْجاني، حدثنا يوسف بن موسى، حدثنا جَرِير وأبو معاوية، عن الأعمش، عن عمرو بن مُرَّة، عن طلحة بن يزيد الأنصاري، قال: قال زيد بن أرقم: قال رسول الله ﷺ: "ما أنتم بجُزءٍ من مئةِ ألف جزءٍ ممَّن يَرِدُ عليَّ الحوضَ يومَ القيامة". قال: فقلنا لزيدٍ: كم كنتم يومئذٍ؟ قال: ما بينَ الستِّ مئةٍ إلى السَّبع مئة (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، ولكنهما تَرَكاهُ للخِلَاف الذي في متنهِ من العَدَد، والله أعلم. وله شاهد على شرط مسلم، عن زيد بن أرقمَ في ذِكْر الحوض بغير هذا اللفظ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 257 - لعلهما تركاه لاختلاف العدد
حافظ طلحہ بابر

سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم قیامت کے دن حوض پر میرے پاس آنے والوں کا لاکھواں حصہ بھی نہیں ہو۔“ راوی کہتے ہیں کہ ہم نے زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا: اس دن آپ لوگ کتنے تھے؟ انہوں نے کہا: چھ سو سے سات سو کے درمیان۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور انہوں نے اسے اس لیے چھوڑا ہے کیونکہ اس کے متن میں تعداد کے حوالے سے اختلاف پایا جاتا ہے، واللہ اعلم۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإيمان / حدیث: 259
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن،كسابقه» [ترقيم الرساله 259] [ترقيم الشركة 257] [ترقيم العلميه 257]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده حسن كسابقه. أبو معاوية: هو محمد بن خازم الضرير.
درجۂ حدیث: سابقہ روایت کی طرح اس کی سند بھی حسن ہے۔
ناموں کی تحقیق: ابومعاویہ سے مراد محمد بن خازم الضریر ہیں۔
وأخرجه أحمد 32/ (19268) عن أبي معاوية، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (ج32، حدیث 19268) میں ابومعاویہ کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 259 سے ماخوذ ہے۔