حدیث نمبر: 254
حدثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا محمد بن عمرو الحَرَشي، حدثنا أحمد بن عبد الله بن يونس، حدثنا عبد الرحمن بن أبي الزِّناد، عن أبيه، عن خارجةَ بن زيد بن ثابت قال: قال زيد بن ثابت: أَمَرني رسول الله ﷺ فتعلَّمتُ له كتابةَ اليهود، وقال: "إني والله ما آمَنُ يهودَ على كِتابي"، فتعلَّمتُه، فلم يمُرَّ بي نصفُ شهرٍ حتى حَذَقتُه، قال أَبي: فكنت أكتبُ له إذا كَتَبَ، وأقرأُ له إذا كُتِبَ إليه (3). قد استَشهَدا جميعًا بعبد الرحمن بن أبي الزِّناد. و
هذا حديث صحيح، ولا أعرفُ في الرُّخْصة لتعلُّم كتابةِ أهل الكتاب غيرَ هذا الحديث.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 252 - هذا صحيح
حافظ طلحہ بابر

خارجہ بن زید بن ثابت اپنے والد (سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: مجھے رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا تو میں نے آپ ﷺ کے لیے یہودیوں کی تحریر سیکھ لی، آپ ﷺ نے فرمایا تھا: ”اللہ کی قسم! مجھے اپنی خط و کتابت کے معاملے میں یہودیوں پر بھروسہ نہیں ہے“، پس میں نے اسے سیکھ لیا اور ابھی آدھا مہینہ بھی نہیں گزرا تھا کہ میں اس میں ماہر ہو گیا، وہ کہتے ہیں: پھر جب آپ ﷺ یہودیوں کو خط لکھواتے تو میں لکھتا تھا اور جب ان کی طرف سے خط آتا تو میں آپ ﷺ کو پڑھ کر سناتا تھا۔
یہ حدیث صحیح ہے اور مجھے اہلِ کتاب کی تحریر سیکھنے کی رخصت کے بارے میں اس کے علاوہ کوئی اور حدیث معلوم نہیں۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإيمان / حدیث: 254
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن» [ترقيم الرساله 254] [ترقيم الشركة 252] [ترقيم العلميه 252]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده حسن. أبو الزناد: هو عبد الله بن ذكوان.
درجۂ حدیث: اس کی سند حسن ہے۔
ناموں کی تحقیق: ابوالزناد سے مراد عبداللہ بن ذکوان ہیں۔
وأخرجه أبو داود (3645) عن أحمد بن يونس، بهذا الإسناد.

وأخرجه أحمد 35/ (21618)، والترمذي (2715) من طريقين عن ابن أبي الزناد، به. وقال الترمذي: حديث حسن صحيح. وانظر ما سيأتي برقم (5891).

حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (3645) نے احمد بن یونس کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے؛ نیز امام احمد (ج35، 21618) اور ترمذی (2715) نے ابن ابی الزناد کے دو طریقوں سے اسے نقل کیا ہے۔
درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اسے "حسن صحیح" کہا ہے۔
نوٹ / توضیح: مزید تفصیل کے لیے آگے حدیث نمبر (5891) ملاحظہ کریں۔
وعلَّقه البخاري في "صحيحه" برقم (7195) فقال: وقال خارجة بن زيد بن ثابت عن زيد بن ثابت، فذكر نحوه.
حوالہ / مصدر: امام بخاری نے اسے اپنی "صحیح" (7195) میں تعلیقاً ذکر کیا ہے اور کہا ہے: "خارجہ بن زید بن ثابت نے اپنے والد زید بن ثابت سے روایت کیا..." اور پھر اسی کی مانند ذکر کیا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 254 سے ماخوذ ہے۔