کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: میری امت میں سے ایک شخص کی شفاعت سے بنی تمیم سے زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السَّمّاك ببغداد، حدثنا علي بن إبراهيم الواسطي، حدثنا وَهْب بن جَرير، حدثنا شعبة. وأخبرنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شعبة (1)، حدثنا خالد، عن عبد الله بن شَقيق، عن رجل من أصحاب النبي ﷺ يقال له: ابن أبي الجَدْعاء، قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول: "ليَدخُلَنَّ الجنةَ بشفاعةِ رجلٍ من أمَّتي أكثرُ من بني تَميمٍ" (2). هذا عبد الله بن أبي الجَدْعاء صحابيٌّ مشهور، مخرَّجٌ ذِكرُه في المسانيد، وهو من ساكني مكة من الصحابة.
حافظ طلحہ بابر
نبی کریم ﷺ کے ایک صحابی، جنہیں ابن ابی الجدعاء کہا جاتا ہے، سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”میری امت کے ایک شخص کی شفاعت کی بدولت (قبیلہ) بنی تمیم کی کل تعداد سے بھی زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔“
یہ عبداللہ بن ابی الجدعاء ایک مشہور صحابی ہیں، جن کا ذکر مسانید میں موجود ہے اور وہ مکہ کے رہنے والے صحابہ میں سے ہیں۔
یہ عبداللہ بن ابی الجدعاء ایک مشہور صحابی ہیں، جن کا ذکر مسانید میں موجود ہے اور وہ مکہ کے رہنے والے صحابہ میں سے ہیں۔
حدثنا بصحَّة ما ذكرتُه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنَّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا بِشْر بن المفضَّل، حدثنا خالد، عن عبد الله بن شَقيق قال: جلستُ إلى قوم أنا رابعُهم، فقال أحدهم: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "ليَدخُلَنَّ الجنةَ بشفاعةِ رجلٍ من أمتي أكثرُ من بني تَميمٍ" قال: قلنا: سِواكَ يا رسول الله؟ قال: "سِوايَ". قلت: أنت سمعتَه من رسول الله ﷺ؟ قال: نعم، فلمّا قام قلتُ: مَن هذا؟ قالوا: هذا ابنُ أبي الجَدْعاء (3).
هذا حديث صحيح قد احتجَّا برُواتِه، وعبدُ الله بن شقيق تابعيٌّ محتَجٌّ به، وإنما تَرَكاه لما قدَّمنا ذِكرَه من تفرُّد التابعي عن الصحابي (4).
هذا حديث صحيح قد احتجَّا برُواتِه، وعبدُ الله بن شقيق تابعيٌّ محتَجٌّ به، وإنما تَرَكاه لما قدَّمنا ذِكرَه من تفرُّد التابعي عن الصحابي (4).
حافظ طلحہ بابر
عبداللہ بن شقیق سے روایت ہے کہ میں ایک جماعت کے پاس بیٹھا تھا اور میں چوتھا شخص تھا، تو ان میں سے ایک صاحب نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”میری امت کے ایک شخص کی شفاعت سے بنو تمیم (قبیلے) سے بھی زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔“ ہم نے عرض کیا: (یا رسول اللہ!) کیا آپ کے علاوہ کوئی اور شخص؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، میرے علاوہ کوئی اور۔“ میں (عبداللہ بن شقیق) نے پوچھا: کیا آپ نے خود اسے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں۔ جب وہ صاحب چلے گئے تو میں نے پوچھا کہ یہ کون تھے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ (صحابی رسول) ابن ابی الجدعاء تھے۔
یہ حدیث صحیح ہے اور امام بخاری و مسلم نے اس کے راویوں سے استدلال کیا ہے، اور عبداللہ بن شقیق ایک ایسے تابعی ہیں جن سے احتجاج کیا جاتا ہے، ان دونوں (شیخین) نے اسے محض اس لیے چھوڑ دیا کہ جیسا ہم نے پہلے ذکر کیا کہ ایک ہی تابعی کا ایک صحابی سے روایت کرنے میں منفرد ہونا (ان کے معیار کے خلاف تھا)۔
یہ حدیث صحیح ہے اور امام بخاری و مسلم نے اس کے راویوں سے استدلال کیا ہے، اور عبداللہ بن شقیق ایک ایسے تابعی ہیں جن سے احتجاج کیا جاتا ہے، ان دونوں (شیخین) نے اسے محض اس لیے چھوڑ دیا کہ جیسا ہم نے پہلے ذکر کیا کہ ایک ہی تابعی کا ایک صحابی سے روایت کرنے میں منفرد ہونا (ان کے معیار کے خلاف تھا)۔