کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: جن دو مسلمانوں کے تین نابالغ بچے فوت ہو جائیں، اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے دونوں کو جنت میں داخل فرمائے گا۔
أخبرنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب العَدْل وأبو عمرو محمد بن جعفر الزاهد قالا: حدثنا إبراهيم بن علي، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا أبو معاوية، عن داود بن أبي هند، عن عبد الله بن قيس الأَسَدي، عن الحارث بن أُقَيْش قال: قال رسول الله ﷺ: "ما من مُسلمَينِ يقدِّمانِ ثلاثةً لم يَبلُغوا الحِنْثَ، إلّا أدخَلَهما الله الجنةَ بفضلِ رحمتِه إياهما" قالوا: يا رسول الله، وذو الاثنين؟ قال: "وذو الاثنين". وقال رسول الله ﷺ: "إنَّ من أمَّتي مَن يَدخُل الجنةَ بشفاعته أكثرُ من مُضَرَ، وإنَّ من أمَّتي من سيُعظَّمُ للنار حتى يكونَ إحدى زواياها" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، والحارث بن أُقيش مخرَّج حديثه في مسانيد الأئمة، وهو من النَّمَط الذي قدَّمنا ذِكرَه من تفرُّد التابعي الواحد عن رجلٍ من الصحابة. وهكذا رواه شعبةُ عن داود بن أبي هند:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 238 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، والحارث بن أُقيش مخرَّج حديثه في مسانيد الأئمة، وهو من النَّمَط الذي قدَّمنا ذِكرَه من تفرُّد التابعي الواحد عن رجلٍ من الصحابة. وهكذا رواه شعبةُ عن داود بن أبي هند:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 238 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
حارث بن اَقیش رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جن دو مسلمانوں کے تین بچے بلوغت کی عمر کو پہنچنے سے پہلے فوت ہو جائیں، اللہ تعالیٰ ان دونوں (والدین) پر اپنی رحمت کے فضل سے انہیں جنت میں داخل فرما دے گا۔“ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اور جس کے دو بچے فوت ہوئے ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور جس کے دو بچے (فوت ہوئے ہوں اسے بھی)۔“ اور رسول اللہ ﷺ نے مزید فرمایا: ”بے شک میری امت میں ایسے لوگ بھی ہیں جن کی شفاعت کی بدولت (قبیلہ) مُضَر کی کل تعداد سے بھی زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے، اور میری امت میں کوئی ایسا (گناہگار) بھی ہو گا جسے جہنم کے لیے اتنا بڑا کر دیا جائے گا کہ وہ اس کا ایک کونا بن جائے گا۔“
اس حدیث کی سند امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، اور حارث بن اقیش کا ذکر ائمہ کی مسانید میں موجود ہے، اور یہ اسی قبیل سے ہے جس کا ہم نے پہلے ذکر کیا کہ ایک تابعی کا کسی صحابی سے روایت کرنے میں منفرد ہونا (شیخین کے ہاں علت ہے)۔
اس حدیث کی سند امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، اور حارث بن اقیش کا ذکر ائمہ کی مسانید میں موجود ہے، اور یہ اسی قبیل سے ہے جس کا ہم نے پہلے ذکر کیا کہ ایک تابعی کا کسی صحابی سے روایت کرنے میں منفرد ہونا (شیخین کے ہاں علت ہے)۔
أخبرَناه أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا الحسن بن علي بن شبيب المَعْمَري، حدثنا المنذر بن الوليد الجارُودِي، حدثني أَبي، حدثنا شُعْبة، عن داود بن أبي هند، عن عبد الله بن قيس، عن الحارث بن أُقيش قال: قال رسول الله ﷺ: "إنَّ الرجل من أمَّتي لَيدخُلُ الجنةَ، فيَشفَعُ لأكثرَ من مُضَرَ" (1).
حافظ طلحہ بابر
حارث بن اَقیش رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت کا ایک آدمی (ایسا بھی ہوگا جو) جنت میں داخل ہوگا، پھر وہ (قبیلہ) مُضَر کی کل تعداد سے بھی زیادہ لوگوں کی شفاعت کرے گا۔“