المستدرك على الصحيحين
كتاب الإيمان— ایمان کا بیان
مَنْ يَتَعَاظَمُ فِي نَفْسِهِ وَيَخْتَالُ فِي مِشْيَتِهِ إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ باب: جو اپنے آپ کو بڑا سمجھے اور اکڑ کر چلے وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر ناراض ہو گا
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مرزوق البَصري بمصر، حدثنا عمر بن يونس بن القاسم اليَمَامي، حدثني أبي، أنَّ عِكْرمة بن خالد ابن سعيد بن العاص المخزومي حدَّثه: أنه لَقِيَ عبد الله بن عمر بن الخطَّاب فقال له: يا أبا عبد الرحمن، إنَّا بنو المغيرة قومٌ فينا نَخْوةٌ، فهل سمعت رسول الله ﷺ يقول في ذلك شيئًا؟ فقال عبد الله بن عمر: سمعت رسول الله ﷺ يقول: "ما من رجلٍ يَتعاظَمُ في نفسه ويختالُ في مشيتِه، إلّا لَقِيَ الله وهو عليه غضبانُ" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين (3)، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 201 - على شرط مسلمعکرمہ بن خالد بن سعید بن عاص مخزومی سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما سے ملاقات کی اور ان سے عرض کیا: اے ابو عبدالرحمن! ہم بنو مغیرہ ایک ایسی قوم ہیں جس میں (خاندانی) فخر اور بڑائی کا مادہ پایا جاتا ہے، تو کیا آپ نے اس بارے میں رسول اللہ ﷺ سے کچھ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے؟ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص بھی اپنے دل میں خود کو بڑا سمجھے گا اور اپنی چال ڈھال میں تکبر و فخر اختیار کرے گا، وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر سخت غضبناک ہو گا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرائط کے مطابق صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد 10/ (5995) عن يحيى بن إسحاق السَّيلَحيني، عن يونس بن القاسم، بهذا الإسناد - بالمرفوع دون القصة.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (10/5995) میں یونس بن القاسم کی سند سے مرفوعاً روایت کیا ہے، مگر اس میں قصہ مذکور نہیں ہے۔
(3) لفظ "الشيخين" سقط من النسخ الخطية، وأثبتناه من المطبوع و"إتحاف المهرة" للحافظ ابن حجر (10045)، وفي "تلخيص" الذهبي: شرط مسلم.
فنی نکتہ: لفظ "الشیخین" (بخاری و مسلم) خطی نسخوں سے گر گیا ہے جسے مطبوعہ اور ابن حجر کی کتاب سے ثابت کیا گیا ہے۔
اہم نکتہ: امام ذہبی کے نزدیک یہ روایت صرف "امام مسلم کی شرط" پر ہے۔