حدیث نمبر: 204
أخبرنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد، حدثنا جعفر بن أبي عثمان الطَّيالسي، حدثنا سهل بن بكَّار، حدثنا حمَّاد سَلَمة، عن قتادة، عن سعيد بن المسيّب، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ فيما يَحْكي عن ربَّه ﷿ قال: "الكبرياءُ رِدَائي، فمن نازَعَني رِدائي قَصَمتُه" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه بهذا اللفظ، إنما أخرجه مسلم من حديث الأغرِّ عن أبي هريرة بغير هذا اللفظ (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 203 - أخرجه مسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے رب عزوجل سے نقل کرتے ہوئے فرمایا: ”بڑائی میری چادر ہے، پس جس کسی نے بھی میری اس چادر (صفتِ کبریا) کے معاملے میں مجھ سے جھگڑا کیا (یعنی تکبر کیا) تو میں اسے توڑ کر رکھ دوں گا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا، جبکہ امام مسلم نے اسے اغر کی حدیث سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے ان الفاظ کے علاوہ (دیگر الفاظ) کے ساتھ روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإيمان / حدیث: 204
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 204] [ترقيم الشركة 203] [ترقيم العلميه 203]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه البيهقي في "الأسماء والصفات" (122) من طريق يحيى بن محمد بن يحيى، عن سهل بن بكار، بهذا الإسناد، وقرن بقتادة عليَّ بن زيد.
حوالہ / مصدر: اسے امام بیہقی نے "الاسماء والصفات" (122) میں سہل بن بکار کی اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے اور قتادہ کے ساتھ علی بن زید کا بھی ذکر کیا ہے۔
(2) هو في "صحيح مسلم" (2620) من حديث الأغر عن أبي سعيد وأبي هريرة قالا: قال

رسول الله ﷺ: "العزُّ إزارُه، والكبرياء رداؤه، فمن ينازعني عذَّبتُه". وانظر تمام تخريجه في "مسند أحمد" 12 (7382).

حوالہ / مصدر: یہ حدیث "صحیح مسلم" (2620) میں حضرت ابوسعید اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "عزت میرا تہبند ہے اور بڑائی میری چادر، جو ان میں مجھ سے جھگڑا کرے گا میں اسے عذاب دوں گا"۔
علمی رہنمائی: اس کی مکمل تخریج مسند احمد (12/7382) میں دیکھی جا سکتی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 204 سے ماخوذ ہے۔