حدثنا أبو أحمد بكر بن محمد الصَّيْرفي بمَرُو، حدثنا أبو قلابة الرَّقاشي، حدثنا أزهَرُ بن سعد، حدثنا حاتم بن أبي صغيرة، عن أبي بلج، عن أبي بكر بن أبي موسى، عن أبيه قال: ذُكِرَ الطاعونُ عند أبي موسى الأشعريِّ، فقال أبو موسى: سألنا عنه رسول الله ﷺ، فقال: "وَخْزُ إخوانكم - أو قال (3): أعدائكم - من الجنِّ، وهو لكم شهادةٌ" (4).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وهكذا رواه أبو عَوَانة عن أبي بَلْج:
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وهكذا رواه أبو عَوَانة عن أبي بَلْج:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے پاس طاعون کا ذکر چھڑا، تو ابوموسیٰ نے فرمایا: ہم نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے بارے میں سوال کیا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تمہارے (غائب) بھائیوں - یا فرمایا: تمہارے دشمنوں - یعنی جنات کی طرف سے کچوکا لگانا ہے، اور یہ تمہارے لیے شہادت کا درجہ ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ ابو عوانہ نے اسے ابو بلج سے اسی طرح روایت کیا ہے:
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ ابو عوانہ نے اسے ابو بلج سے اسی طرح روایت کیا ہے:
أخبرنيه أبو الطاهر عبد الله بن محمد الدِّهْقان، حدثنا أبو بكر بن رجاء ابن السِّنْدي، حدثنا عباس بن عبد العظيم العَنبَري ومحمد بن أبي عتَّاب قالا: حدثنا يحيى بن حمَّاد، حدثنا أبو عَوَانة، عن أبي بَلْج، عن أبي بكر بن أبي موسى، عن أبيه عبد الله بن قيس، عن النبي ﷺ نحوه (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 158 - على شرط مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 158 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوموسیٰ عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے طاعون کے متعلق اسی طرح (جنات کا کچوکا ہونا) ارشاد فرمایا۔