المستدرك على الصحيحين
كتاب الإيمان— ایمان کا بیان
أَشَدُّ النَّاسِ بَلَاءً الْأَنْبِيَاءُ ثُمُّ الْعُلَماَء ثُمَّ الصَّالِحُونَ باب: سب سے زیادہ آزمائش انبیاء پر آتی ہے، پھر علما پر، پھر نیک لوگوں پر
حدیث نمبر: 121
أخبرَنيهِ أبو بكر بن إسحاق الفقيه - فيما قرأتُ عليه من أصل كتابه - أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا عمرو بن عَوْن، حدثنا خالد بن عبد الله، عن العلاء بن المسيَّب، عن مُصعَب بن سعد، عن أبيه قال: سُئِلَ النبيُّ ﷺ: أَيُّ الناس أشدُّ بَلاءً؟ قال: "الأنبياءُ، ثمَّ الأمثلُ فالأمثلُ، فإذا كان الرجل صُلْبَ الدِّين، يُبتَلى الرجلُ على قَدْرٍ دينه، فمَن ثَخُنَ دينُه ثَخُنَ بلاؤُه، ومَن ضَعُفَ دينُه ضَعُفَ بلاؤُه" (1). و
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين. وشاهده:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سے سوال کیا گیا: لوگوں میں سب سے سخت آزمائش کن پر ہوتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”انبیاء پر، پھر ان پر جو ان کے بعد (مرتبے میں) سب سے بہتر ہوں، پھر ان پر جو ان کے بعد سب سے بہتر ہوں۔ جب آدمی اپنے دین میں مضبوط ہوتا ہے، تو اسے اس کے دین کی قدر کے مطابق آزمایا جاتا ہے؛ جس کا دین جتنا ٹھوس ہوگا، اس کی آزمائش اتنی ہی سخت ہوگی، اور جس کا دین کمزور ہوگا اس کی آزمائش بھی (اسی لحاظ سے) ہلکی ہوگی۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات إلّا أنه قد اختُلف فيه على العلاء بن المسيب، فقد رواه عنه هكذا خالد بن عبد الله الواسطي كما عند المصنف هنا وعبد الرحمن بن محمد المحاربي عند البزار (1155).
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
فنی نکتہ / علّت: اس سند میں علاء بن مسیب پر اختلاف ہوا ہے؛ خالد بن عبداللہ واسطی اور عبدالرحمن بن محمد محاربی (بزار: 1155) نے اسے اسی طرح (موصولاً) روایت کیا ہے۔
وخالفهما جرير بن عبد الحميد عند ابن حبان (2920)، والمحاملي في "أماليه" (151)، ومحمد بن فضيل عند ابن المقرئ في "معجمه" (650)، كلاهما رواه عن العلاء بن المسيب عن أبيه عن سعد بن أبي وقاص، ورواية المسيَّب - وهو ابن رافع - عن سعد مرسلة.
فنی نکتہ / علّت: جریر بن عبدالحمید (ابن حبان: 2920) اور محمد بن فضیل (معجم ابن المقرئ: 650) نے مذکورہ راویوں کی مخالفت کرتے ہوئے اسے "علاء بن مسیب عن ابیہ عن سعد" کی سند سے روایت کیا ہے۔
اہم نکتہ: مسیب (بن رافع) کی حضرت سعد سے روایت "مرسل" ہے۔
وانظر ما بعده.
نوٹ / توضیح: اس کے بعد والی بحث ملاحظہ فرمائیں۔
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
فنی نکتہ / علّت: اس سند میں علاء بن مسیب پر اختلاف ہوا ہے؛ خالد بن عبداللہ واسطی اور عبدالرحمن بن محمد محاربی (بزار: 1155) نے اسے اسی طرح (موصولاً) روایت کیا ہے۔
وخالفهما جرير بن عبد الحميد عند ابن حبان (2920)، والمحاملي في "أماليه" (151)، ومحمد بن فضيل عند ابن المقرئ في "معجمه" (650)، كلاهما رواه عن العلاء بن المسيب عن أبيه عن سعد بن أبي وقاص، ورواية المسيَّب - وهو ابن رافع - عن سعد مرسلة.
فنی نکتہ / علّت: جریر بن عبدالحمید (ابن حبان: 2920) اور محمد بن فضیل (معجم ابن المقرئ: 650) نے مذکورہ راویوں کی مخالفت کرتے ہوئے اسے "علاء بن مسیب عن ابیہ عن سعد" کی سند سے روایت کیا ہے۔
اہم نکتہ: مسیب (بن رافع) کی حضرت سعد سے روایت "مرسل" ہے۔
وانظر ما بعده.
نوٹ / توضیح: اس کے بعد والی بحث ملاحظہ فرمائیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 121 سے ماخوذ ہے۔