باب: بے شک آدمی اس گناہ کی وجہ سے جس کا وہ ارتکاب کرتا ہے ، رزق سے محروم کر دیا جاتا ہے ۔
حدیث 1001–1001
باب: بے شَک اللہ تعالیٰ ٰ کے بعض بندے ایسے بھی ہیں کہ اگر وہ اللہ کی قسم کھا لیں ( کہ اللہ ایسا کرے گا ) تو اللہ ضرور ان کی قسم پوری کر دیتا ہے ۔
حدیث 1002–1004
باب: بے شک اللہ تعالیٰ ٰ کے بعض بندے ایسے ہیں جو لوگوں کو (ان کی ) علامات سے پہچان جاتے ہیں
حدیث 1005–1006
باب: ”بے شک اللہ تعالیٰ ٰ کے بعض بندے ایسے ہیں جنہیں اس نے لوگوں کی حاجات کے لیے پیدا کیا ہے
حدیث 1007–1008
باب: بے شک اللہ کا دستور ہے کہ دنیا کی جس چیز کو وہ عروج دیتا ہے اسے پست بھی کرتا ہے
حدیث 1009–1009
باب: بے شک خط کا جواب سلام کے جواب کی طرح ضروری ہے
حدیث 1010–1010
باب: بے شک اشارے کنائے سے بات کرنے میں جھوٹ سے بچاؤ ہے
حدیث 1011–1011
باب: بے شک افضل چیز جو انسان کھاتا ہے وہی ہے جو اس کی اپنی کمائی میں سے ہو
حدیث 1012–1013
باب: بے شک مانگنا انتہائی محتاج یا تاوان کے بوجھ تلے دبے ہوئے شخص کے لیے ہی جائز ہے
حدیث 1014–1014
باب: بے شک کثیر علم کے ساتھ قلیل عمل بھی بہت ہے اور جہالت کے ساتھ کثیر عمل بھی کم ہے
حدیث 1015–1016
باب: بے شک بندہ (حسن خلق کی وجہ سے ) درجہ پالیتا ہے
حدیث 1017–1017
باب: بے شک ہر دین کی ایک خصلت ہوتی ہے اور بے شک اس دین کی خصلت حیاء ہے
حدیث 1018–1019
باب: بے شک ہر چیز کا ایک شرف ہوتا ہے
حدیث 1020–1021
باب: بے شک ہر امت کے لیے ایک آزمائش ہوتی ہے اور بے شک میری امت کی آزمائش مال ہے
حدیث 1022–1024
باب: ہرکوشاں رہنے والے کی ایک حد ہوتی ہے اور ہر کوشاں رہنے والے کی حد موت ہے
حدیث 1025–1025
باب: بے شک ہر عمل کرنے والے کے لیے (عمل کی) تیزی ہے
حدیث 1026–1027
باب: بے شک ہر بات کی ایک تصدیق ہوتی ہے
حدیث 1028–1028
باب: بے شک ہر بادشاہ کی ایک مخصوص چراگاہ ہوتی ہے اور بے شک اللہ کی مخصوص چراگاہ اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں
حدیث 1029–1030
باب: بے شک ہر روزہ دار کے لیے ایک (مقبول) دعا ہوتی ہے
حدیث 1031–1031
باب: بے شک ہر چیز کے لیے ایک دروازہ ہوتا ہے اور بے شک عبادت کا دروازہ روزہ ہے
حدیث 1032–1032
باب: بے شک ہر چیز کے لیے ایک کان ہوتی ہے
حدیث 1033–1034
باب: بے شک ہر چیز کا ایک دل ہوتا ہے اور بے شک قرآن کا دل سورة یسٰن ہے
حدیث 1035–1036
باب: بے شک ہر نبی کے لیے ایک (مقبول ) دعا ہوتی ۔ اور بے شک میں نے اپنی اس دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کے حق میں شفاعت کرنے کے لیے چھپا کر رکھا ہے
حدیث 1037–1045
باب: بے شک مومن کو اس کے تمام اخراجات میں اجر ملتا ہے
حدیث 1046–1046
باب: بے شک مومن اپنی تلوار اور اپنی زبان کے ذریعے جہاد کرتا ہے
حدیث 1047–1047
باب: بے شک حسد نیکیوں کو کھا جاتا ہے
حدیث 1048–1049
باب: بے شک زیادہ تر لوگوں کو جہنم میں جو چیز لے جائے گی وہ دو کھوکھلی چیزیں ہیں
حدیث 1050–1050
باب: بے شک دین شروع ہوا تو یہ اجنبی تھا اور جلد ہی یہ دوبارہ اسی طرح اجنبی ہو جائے گا جس طرح کہ شروع ہوا تھا
حدیث 1051–1055
باب: بے شک ایک ایسا فتنہ برپا ہوگا جو بندوں کو اکھاڑ پھینکے گا
حدیث 1056–1056
باب: بے شک نظر بد تو آدمی کو قبر میں داخل کر دیتی ہے
حدیث 1057–1059
باب: بے شک جو شخص تکبر کے ساتھ اپنا کپڑا گھسیٹتا ہے تو روز قیامت اللہ تعالیٰ ٰ اس کی طرف دیکھے گا بھی نہیں
حدیث 1060–1062
باب: بے شک اللہ ہر کام میں نرمی کو پسند کرتا ہے
حدیث 1063–1066
باب: بے شک اللہ تعالیٰ ٰ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کوپسند کرتا ہے
حدیث 1067–1068
باب: بے شک اللہ دعا میں اصرار کرنے والوں کو پسند کرتا ہے
حدیث 1069–1070
باب: بے شک اللہ نیک ، گم نام ، متقی لوگوں کو پسند کرتا ہے
حدیث 1071–1071
باب: بے شک اللہ پیشہ اختیار کرنے والے مومن کو پسند کرتا ہے
حدیث 1072–1074
باب: سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”بے شک اللہ ہرغمگین دل کو پسند کرتا ہے ۔ “
حدیث 1075–1075
باب: بے شک اللہ اونچے اور بلند کاموں کو پسند کرتا ہے ۔ اور گھٹیا کاموں کو نا پسند کرتا ہے
حدیث 1076–1077
باب: بے شک اللہ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کی (دی ہوئی) رخصت کو اختیار کیا جائے جیسا کہ وہ پسند کرتا ہے کہ اس کی نافرمانی کو ترک کیا جائے ۔
حدیث 1078–1079
باب: بے شک اللہ شہوتوں کے آتے وقت پرکھنے والی نظر کو پسند کرتا ہے
حدیث 1080–1081
باب: بے شک تیرا رب اپنی تعریفوں کو پسند کرتا ہے
حدیث 1082–1082
باب: بے شک اللہ نرمی اور کشادہ روئی کو پسند کرتا ہے
حدیث 1083–1084
باب: بلاشبہ اللہ اپنے بندے کی توبہ اس وقت تک قبول کرتا ہے جب تک اسے غرغرہ شروع نہ ہو
حدیث 1085–1085
باب: بے شک اللہ تعالیٰ ایسے طاقتور شرارتی انسان سے نفرت کرتا ہے جسے اس کے جسم و مال میں کوئی مصیبت نہ پہنچی ہو
حدیث 1086–1086
باب: بلاشبہ اللہ نے تمہارے لیے نماز میں لغو کام ناپسند کیا ہے
حدیث 1087–1087
باب: بے شک اللہ تمہیں قیل و قال ، مال ضائع کرنے سے منع کرتا ہے
حدیث 1088–1090
باب: بے شک اللہ مسلمان کے لیے غیرت کھاتا ہے لہٰذا اس (مسلمان) کو بھی غیرت کھانی چاہیے
حدیث 1091–1092
باب: بے شک اللہ اپنے بندوں میں سے صرف رحم کرنے والوں پر رحم کرتا ہے
حدیث 1093–1093
باب: بے شک اللہ صدقہ کی وجہ سے ستر بری موتیں دور کر دیتا ہے
حدیث 1094–1094
باب: بے شک اللہ بندے کو اس گناہ کے بدلے بھی فائدہ پہنچاتا ہے جو اس سے سرزد ہو
حدیث 1095–1095
باب: بے شک اللہ تعالیٰ ٰ اس دین کی فاجر شخص کے ذریعے بھی مدد کرے گا
حدیث 1096–1097
باب: جو کھانا کھائے تو اس پر اس (اللہ ) کی حمد کرے یا مشروب پیئے تو اس پر بھی اس (اللہ ) کی حمد کرے
حدیث 1098–1099
باب: بے شک اللہ تعالیٰ جب کسی بندے پر کوئی نعمت انعام کرتا ہے تو اسے اس پر دیکھنا پسند کرتا ہے
حدیث 1100–1102
باب: بے شک اللہ علم کو لوگوں سے چھین کر نہیں اٹھائے گا
حدیث 1103–1107
باب: بے شک اللہ آخرت کی نیت پر عطا کرتا ہے
حدیث 1108–1109
باب: بے شک اللہ تعالیٰ ٰ بندے سے حیا کرتا ہے کہ وہ (بندہ) اس کی طرف اپنے ہاتھ اٹھائے اور وہ (اللہ ) انہیں خالی لوٹا دے
حدیث 1110–1111
باب: بے شک اللہ نے میرے لیے روئے زمین مسجد اور طہارت بنا دی ہے
حدیث 1112–1112
باب: بے شک میرے رب نے زمین کو میرے لیے سمیٹ دیا تو میں نے اس کے مشرق و مغرب تک کو دیکھ لیا
حدیث 1113–1113
باب: بے شک اللہ نے میری امت سے ان تمام باتوں سے درگزر فرمایا ہے جو ان کے دل میں پیدا ہوتی ہیں
حدیث 1114–1115
باب: بے شک اللہ نے اپنے عدل و انصاف سے راحت و فرحت کو رضا و یقین میں رکھا ہے
حدیث 1116–1116
باب: بے شک اللہ نے عورتوں پر غیرت فرض کردی ہے
حدیث 1117–1117
باب: بے شک اللہ ہر بات کرنے والی کی زبان کے پاس ہوتا ہے
حدیث 1118–1118
باب: بے شک اللہ تعالیٰ بندے کا عمل اس وقت تک قبول نہیں کرتا جب تک اس کی بات سے راضی نہ ہو جائے
حدیث 1119–1119
باب: بے شک الله عز وجل جب کسی قوم کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا سے تو انہیں آزمائش میں ڈال دیتا ہے
حدیث 1120–1121
باب: بے شک قیامت کے دن لوگوں میں سب سے سخت عذاب اس عالم کو ہوگا جس کے علم سے اللہ نے اسے فائدہ نہ دیا
حدیث 1122–1122
باب: بے شک اللہ تعالیٰ ٰ کے نزدیک قیامت کے دن لوگوں میں سے بدترین شخص وہ ہوگا جس سے لوگ اس کی فحش کلامی سے بچنے کی وجہ سے ملنا چھوڑ دیں
حدیث 1123–1124
باب: بے شک اللہ تعالیٰ ٰکے نزدیک لوگوں میں سے بدترین شخص وہ ہے جس نے کسی کی دنیا ( بنانے ) کی خاطر اپنی آخرت برباد کرلی
حدیث 1125–1125
باب: بے شک بدبختوں میں سب سے بڑا بد بخت وہ ہے جس پر دنیا کا فقر اور آخرت کا عذاب اکٹھا ہو گیا
حدیث 1126–1126
باب: بے شک مجھے اپنے بعد اپنی امت پر تین کاموں کا خوف ہے
حدیث 1127–1127
باب: بے شک میں تمہاری کمریں پکڑ پکڑ کر (تمہیں ) جہنم سے روک رہا ہوں
حدیث 1128–1133
باب: بے شک ہم اپنے کام (منصب امارت) پر ایسے شخص کو مقرر نہیں کرتے جو اس کا ارادہ رکھتا ہو
حدیث 1134–1134
باب: بے شک تو اللہ سے ڈر کر جس چیز کو چھوڑے گا اللہ تجھے اس سے بہتر عطا فرمائے گا
حدیث 1135–1138
باب: شک اپنے مسلمان بھائی کو خوش کر دینا مغفرت کو واجب کرنے والے امور میں سے ہے
حدیث 1139–1139
باب: ے شک سلام پھیلانا اور اچھا کلام کرنا مغفرت کو واجب کرنے والے امور میں سے ہے
حدیث 1140–1140
باب: بے شک دنیا بڑی میٹھی اور سرسبز ہے اور بے شک ا اللہ تعالیٰ ٰ تمہیں اس میں جانشین بنا کر دیکھے گا کہ تم کیسے عمل کرتے ہو
حدیث 1141–1144
باب: بلا شبہ ابن آدم کے دل کی ہر وادی میں ایک شاخ ہے
حدیث 1145–1145
باب: بے شک میری امت کی عورتوں میں سب سے زیادہ برکت والی وہ ہے جس کا چہرہ پیارا ہو اور مہر کم ہو
حدیث 1146–1146
باب: بے شک یہ دین نہایت مضبوط ہے اس میں نرمی سے گھسا رہ
حدیث 1147–1148
باب: بے شک سنت میں سے ہے کہ آدمی اپنے مہمان کو ( رخصت کرتے وقت ) دروازے تک اس کے ساتھ نکلے
حدیث 1149–1150
باب: بے شک روح القدس نے میرے دل میں پھونکا
حدیث 1151–1152
باب: بے شک پہلی نبوت کی باتوں میں سے جو کچھ لوگوں نے حاصل کیا (اس میں سے یہ بھی ہے ) کہ جب تجھ میں حیاء نہ رہے تو جو جی چاہے کر
حدیث 1153–1156
باب: بے شک نمازی (حقیقی) بادشاہ کا درواز کھٹکھٹاتا ہے
حدیث 1157–1157
باب: بے شک نماز میں مشغولیت ہوتی ہے
حدیث 1158–1158
باب: بے شک میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے کہ میرا بولنا ذکر ہو
حدیث 1159–1159
باب: میں تو ( اللہ تعالیٰ ٰ کی طرف سے ) بھیجی ہوئی رحمت ہوں
حدیث 1160–1161
باب: بے شک ( مسئلہ ) پوچھ لینا لاعلمی کا علاج ہے
حدیث 1162–1163
باب: اہل فضل ہی فضیلت والوں کا مقام پہنچانتے ہیں
حدیث 1164–1164
باب: مجھے تو اعلیٰ اخلاق کی تعمیل کے لیے بھیجا گیا ہے
حدیث 1165–1165
باب: مجھے تو اپنی امت پر گمراہ آئمہ کا خطرہ ہے
حدیث 1166–1166
باب: اعمال کا دارو مدار تو خاتمہ پر ہے
حدیث 1167–1168
باب: قسم یا تو توڑنا پڑتی ہے یا اس پر شرمندہ ہونا پڑتا ہے
حدیث 1169–1170
باب: اعمال کا دارو مدار تو نیتوں پر ہے
حدیث 1171–1173
باب: تالی بجانا تو عورتوں کے لیے ہے
حدیث 1174–1174
باب: دنیا میں آزمائش اور فتنہ ہی باقی رہ گیا ہے
حدیث 1175–1175
باب: رضاعت تو بھوک (میں دودھ پینے ) سے ہوتی ہے
حدیث 1176–1177
باب: بے شک یہ دل زنگ آلود ہو جاتے ہیں جس طرح لوہا زنگ آلود ہو جاتا ہے
حدیث 1178–1179
باب: سنو ! بے شک جنت کا عمل سخت اونچی مشکلات میں گھرا ہوا ہے
حدیث 1180–1180
باب: بے شک نذر و قسم توڑنا پڑتی ہے یا ان پر شرمندہ ہونا پڑتا ہے
حدیث 1181–1181
باب: خبر مشاہدے کی طرح نہیں ہوتی
حدیث 1182–1184
باب: فاسق کی غیبت نہیں ہوتی
حدیث 1185–1186
باب: ظالم کی رگ کا کوئی حق نہیں
حدیث 1187–1187
باب: مؤمن کے اخلاق میں چاپلوسی نہیں ہوتی
حدیث 1188–1188
باب: موت کے بعد طلب توبہ (کا کوئی موقع) نہیں
حدیث 1189–1189
باب: استغفار کے ساتھ کوئی گناہ کبیرہ نہیں رہتا اور اصرار کے ساتھ کوئی صغیرہ گناہ صغیرہ نہیں رہتا
حدیث 1190–1190
باب: جس نے ہمارے علاوہ کسی اور سے مشابہت اختیار کی وہ ہم میں سے نہیں
حدیث 1191–1191
باب: جس کو اللہ نے (مالی) وسعت دی پھر اس نے اپنے گھر والوں پر تنگی کی وہ ہم میں سے نہیں
حدیث 1192–1192
باب: جس نے قرآن کو خوش الحانی سے نہ پڑھا وہ ہم میں سے نہیں
حدیث 1193–1202
اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔