1063 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُسْلِمٍ، مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الْبَغْدَادِيُّ، أبنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى الْأَصْبَهَانِيُّ، بِالْإِسْكَنْدَرِيَّةِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، إِمَامُ الْمَسْجِدِ الْجَامِعِ بأَصْبَهَانَ، ثنا أَبُو مُصْعَبٍ، ثنا مَالِكٌ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِ كُلِّهِ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ ہر کام میں نرمی کو پسند کرتا ہے۔“
1064 - أنا أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ الْمَعْرُوفُ بِابْنِ الصَّبَّاغِ الْفَقِيهِ، ثنا أَبُو عَمْرٍو، أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ الضَّحَّاكُ الْهِلَالِيُّ، نا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، نا سَلَمَةُ بْنُ الْعَيَّارِ، نا مَالِكٌ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَذَكَرَهُ
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا . . . . . . اور انہوں نے یہ حدیث بیان کی۔
1065 - وأنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعِيدٍ الْحَوْفِيُّ، نا أَبُو الْحَسَنِ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَكَرِيَّا النَّيْسَابُورِيُّ، نا أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ النَّسَائِيُّ، نا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، نا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَهْطًا، مِنَ الْيَهُودِ دَخَلُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَاقَتِ الْحَدِيثَ، وَقَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِ كُلِّهِ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی . . . . . . اور انہوں نے یہ حدیث بیان کی اور کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! بے شک اللہ ہر کام میں نرمی کو پسند کرتا ہے۔“
1066 - أنا أَبُو الْحَسَنِ، عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَهْضَمٍ بِمَكَّةَ، نا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقَطَّانُ، نا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، نا أَبُو مُسْهِرٍ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ مُسْهِرٍ، نا مَالِكٌ، نا الْأَوْزَاعِيُّ، يَأْثُرُهُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِكُلِّهِ» رَوَاهُ مُسْلِمٌ، حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ، نَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ
ترجمہ:محمد ارشد کمال
ابن شہاب سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ ہر کام میں نرمی کو پسند کرتا ہے۔“ اسے امام مسلم نے بھی اپنی سند کے ساتھ امام زہری سے ان کی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کیا ہے۔
وضاحت:
تشریح: -
ان احادیث میں نرمی و ملائمت کا درس دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ٰ کو تمام کاموں میں نرمی پسند ہے۔ لہٰذا بندوں کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی پسند کا خیال رکھتے ہوئے اپنے باہمی معاملات میں سختی کے بجائے نرمی اختیار کریں، ہاں جہاں شریعت نے سختی کا مطالبہ کیا ہے وہاں سختی ہی بہتر ہے لیکن باقی امور میں نرمی ہی محبوب ہے۔ مزید دیکھئے حدیث نمبر 732۔
ان احادیث میں نرمی و ملائمت کا درس دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ٰ کو تمام کاموں میں نرمی پسند ہے۔ لہٰذا بندوں کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی پسند کا خیال رکھتے ہوئے اپنے باہمی معاملات میں سختی کے بجائے نرمی اختیار کریں، ہاں جہاں شریعت نے سختی کا مطالبہ کیا ہے وہاں سختی ہی بہتر ہے لیکن باقی امور میں نرمی ہی محبوب ہے۔ مزید دیکھئے حدیث نمبر 732۔