1103 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ نَظِيفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أبنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّافِقِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ الْبَصْرِيُّ، سَنَةَ ثَمَانٍ وَسَبْعِينَ وَمِئَتَيْنِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا مِنَ النَّاسِ، وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ علم کو لوگوں سے چھین کر نہیں اٹھائے گا لیکن وہ علماء کو (دنیا سے) اٹھا کر علم کو اٹھائے گا۔“
1104 - وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ، عَلِيُّ بْنُ مُوسَى السِّمْسَارُ بِدِمَشْقَ، أبنا أَبُو زَيْدٍ، مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَرْوَزِيُّ، أبنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفَرَبْرِيُّ، أبنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَذَكَرَهُ، وَقَالَ فِيهِ: «إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنَ الْعِبَادِ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا . . . . . . اور انہوں نے یہ حدیث بیان کی اور اس میں کہا: ”بے شک اللہ علم کو اس طرح نہیں اٹھائے گا کہ اس کو اپنے بندوں سے چھین لے۔“
1105 - أنا الْحَسَنُ بْنُ فِرَاسٍ، أنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَكِّيُّ، أنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، نا الْقَعْنَبِيُّ، نا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ هِشَامٍ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ
ترجمہ:محمد ارشد کمال
یہ حدیث ایک دوسری سند سے بھی ہشام سے ان کی سند کے ساتھ اسی طرح مروی ہے۔
1106 - وَأَنَاهُ ابْنُ فِرَاسٍ، أنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، نا عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ، نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامٍ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ
ترجمہ:محمد ارشد کمال
یہ حدیث ایک اور سند سے بھی ہشام سے ان کی سند کے ساتھ اسی طرح مروی ہے۔
1107 - أنا صَالِحُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ رِشْدِينَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الدَّارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الْإِمَامِ، نا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنَ النَّاسِ، وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعُلَمَاءَ بِعِلْمِهِمْ، فَإِذَا لَمْ يَبْقَ عَالِمٌ اتَّخَذَ النَّاسُ رُؤَسَاءَ جُهَّالًا، فَسُئِلُوا، فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ، فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ علم اس طرح نہیں اٹھائے گا کہ اسے لوگوں سے چھین لے لیکن وہ علماء کو (دنیا سے) اٹھا کر علم کو اٹھا لے گا پھر جب کوئی عالم (دنیا میں) باقی نہ رہے گا تو لوگ جاہلوں کو سردار بنا لیں گے پس وہ علم کے بغیر فتویٰ دیں گے اس طرح وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔“
وضاحت:
تشریح: -
ان احادیث میں قرب قیامت کی ایک علامت کا بیان ہے کہ علماء دین نا پید ہو جائیں گے اور جاہل لوگ سردار پیشوا اور امام بن جائیں گے جن کو قرآن وحدیث کا علم نہیں ہوگا اس کے باوجود وہ مفتی اور مجتہد بنے ہوں گے اور اپنے فتویٰ اور خود ساختہ مسئلوں سے اپنے ساتھ دوسرے لوگوں کی بھی گمراہی کا باعث بنیں گے۔ اس میں جہاں اس امر کی ترغیب ہے کہ علماء دین زیادہ سے زیادہ تیار کیے جائیں وہاں اس کی بھی تاکید ہے کہ جاہلوں کو دین کا پیشوا بنانے سے اجتناب کیا جائے۔ (ریاض الصالحین: 2/ 228)
ان احادیث میں قرب قیامت کی ایک علامت کا بیان ہے کہ علماء دین نا پید ہو جائیں گے اور جاہل لوگ سردار پیشوا اور امام بن جائیں گے جن کو قرآن وحدیث کا علم نہیں ہوگا اس کے باوجود وہ مفتی اور مجتہد بنے ہوں گے اور اپنے فتویٰ اور خود ساختہ مسئلوں سے اپنے ساتھ دوسرے لوگوں کی بھی گمراہی کا باعث بنیں گے۔ اس میں جہاں اس امر کی ترغیب ہے کہ علماء دین زیادہ سے زیادہ تیار کیے جائیں وہاں اس کی بھی تاکید ہے کہ جاہلوں کو دین کا پیشوا بنانے سے اجتناب کیا جائے۔ (ریاض الصالحین: 2/ 228)