کتب حدیث ›
مسند الشهاب › ابواب
› باب: بے شک دنیا بڑی میٹھی اور سرسبز ہے اور بے شک ا اللہ تعالیٰ ٰ تمہیں اس میں جانشین بنا کر دیکھے گا کہ تم کیسے عمل کرتے ہو
حدیث نمبر: 1141
1141 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَيْمُونٍ الْكَاتِبُ، أبنا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُظَفَّرِ الْحَافِظُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُعَلَّى بْنِ مَنْصُورٍ، ثنا مُعَلَّى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الدُّنْيَا حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ، وَإِنَّ اللَّهَ مُسْتَخْلِفُكُمْ فِيهَا، فَنَاظِرٌ كَيْفَ تَعْمَلُونَ، فَاتَّقُوا الدُّنْيَا، وَاتَّقُوا النِّسَاءَ، وَمَا مِنْ كَلِمَةٍ أَفْضَلَ مِنْ كَلِمَةِ عَدْلٍ عِنْدَ إِمَامٍ جَائِرٍ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک دنیا بڑی میٹھی اور سرسبز ہے اور بے شک اللہ تعالیٰ تمہیں اس میں جانشین بنا کر دیکھے گا کہ تم کیسے عمل کرتے ہو، لہٰذا دنیا سے بچو اور عورتوں سے بچو اور ظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنے سے افضل کوئی کلمہ نہیں۔“
حدیث نمبر: 1142
1142 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، أبنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا عَبَّاسٌ الدُّورِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعَصْرِ، ثُمَّ قَامَ خَطِيبًا، فَقَالَ فِي خُطْبَتِهِ: «أَلَا إِنَّ الدُّنْيَا حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ، وَإِنَّ اللَّهَ مُسْتَخْلِفُكُمْ فِيهَا، فَنَاظِرٌ كَيْفَ تَعْمَلُونَ» ، وَرَوَاهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَثْنًى وَمُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، نَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی پھر آپ خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبہ میں فرمایا: ”سنو! بے شک دنیا بڑی میٹھی اور سرسبز ہے اور بے شک اللہ تمہیں اس میں جانشین بنا کر دیکھے گا کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔“ اسے مسلم بن حجاج نے بھی اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
حدیث نمبر: 1143
1143 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الْمَالِكِيُّ، ثنا ابْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، وَابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنْ عُبَيْدٍ سَنُوطَا، عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَذَاكَرَ هُوَ وَحَمْزَةُ الدُّنْيَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الدُّنْيَا حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ، فَمَنْ أَخَذَ عَفْوَهَا بُورِكَ لَهُ فِيهَا»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدہ خولہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ نے دنیا کے بارے میں گفتگو کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک دنیا بڑی میٹھی اور سرسبز ہے پس جس نے اسے اپنی ضرورت کے مطابق لیا اس کے لیے اس میں برکت ڈال دی جائے گی۔“
حدیث نمبر: 1144
1144 - أنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ النَّيْسَابُورِيُّ، أنا الْقَاضِي أَبُو طَاهِرٍ، مُحَمَّدٌ، نا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَبْدُوسِ بْنِ كَامِلٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأُرُزِّيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، نا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ضِرَارٍ، عَنْ عَمَّتِهِ عَمْرَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ضِرَارٍ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، فَمَنْ أَصَابَ مِنْهَا مِنْ حِلِّهِ فَذَلِكَ الَّذِي بُورِكَ لَهُ، وَكَمْ مِنْ مُتَخَوِّضٍ فِي مَالِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَمَالِ رَسُولِهِ لَهُ النَّارُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدہ عمرہ بنت حارث بن ابی ضرار رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک دنیا بڑی سرسبز اور میٹھی ہے پس جس کو اس کی حلال چیز میں سے کچھ مل گیا تو یہی وہ چیز ہے جس میں اسے برکت دی جائے گی اور کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو اللہ عز و جل اور اس کے رسول کے مال میں (بے جا اور فضول) تصرف کرتے ہیں، قیامت کے دن ان کے لیے آگ ہے۔“
وضاحت:
تشریح: -
جس طرح تر و تازہ پھل ذائقے میں میٹھا اور دیکھنے میں خوش رنگ اور دلوں کو لبھانے والا ہوتا ہے یہی حال دنیا کے مال و اسباب کا ہے انسان کو یہ بہت مرغوب ہیں اور ان کے دل ان کی طرف کھینچتے ہیں اور دنیا کا سب سے لذیذ ترین پھل عورت ہے جو خطرناک ترین بھی ہے جو شخص احکام شریعت سے بے پروا ہو کر دنیا کا طالب اور عورت کی طرف مائل ہوگا سمجھ لو کہ اس کا دین ایمان خطرے میں ہے اور جو شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے ان سے استفادہ واستمتاع کرے گا وہ ان کی حشر سامانیوں اور غارت گری سے محفوظ رہے گا۔ " (ریاض الصالحین: 1، 108)
جس طرح تر و تازہ پھل ذائقے میں میٹھا اور دیکھنے میں خوش رنگ اور دلوں کو لبھانے والا ہوتا ہے یہی حال دنیا کے مال و اسباب کا ہے انسان کو یہ بہت مرغوب ہیں اور ان کے دل ان کی طرف کھینچتے ہیں اور دنیا کا سب سے لذیذ ترین پھل عورت ہے جو خطرناک ترین بھی ہے جو شخص احکام شریعت سے بے پروا ہو کر دنیا کا طالب اور عورت کی طرف مائل ہوگا سمجھ لو کہ اس کا دین ایمان خطرے میں ہے اور جو شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے ان سے استفادہ واستمتاع کرے گا وہ ان کی حشر سامانیوں اور غارت گری سے محفوظ رہے گا۔ " (ریاض الصالحین: 1، 108)