٣٥٨١٠ - حدثنا وكيع قال: ثنا (الأعمش عن إبراهيم) (١) (التميمي) (٢) عن أبيه قال: رأيت حذيفة بن اليمان بالمدائن يشتد بين هدفين في قميص (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم التیمی رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا مدائن میں دو نشانوں کے درمیان باندھ رہے ہیں، ایک قمیص میں۔
٣٥٨١١ - حدثنا وكيع قال: ثنا ابن أبي ذئب عن نافع بن أبي نافع مولى أبي أحمد عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا سَبَق إلا في خف أو حافر أو نصل" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مسابقہ نہیں ہے مگر موزے (جوتے) پہن کر یا ننگے پاؤں چلنے میں یا تلوار و تیر اندازی میں۔
٣٥٨١٢ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن زيد بن أسلم عن أبي الفوارس عن أبي هريرة قال: لا سبق إلا في خف أو حافر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے۔
٣٥٨١٣ - حدثنا وكيع قال: ثنا الأعمش عن مجاهد قال: رأيت ابن عمر يشتد بين الهدفين في قميص، ويقول: أنا بها، أنا بها -يعني إذا أصاب، ثم يرجع متكئًا قوسه حتى يمر في السوق (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ قمیض دو نشانوں کے درمیان باندھ رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ میں اس کے بدلے میں ہوں، میں اس کے بدلے میں ہوں۔ اگر یہ نشانے پر لگے پھر کمان کندھے پر لٹکا کر بازار سے گزرے۔
٣٥٨١٤ - حدثنا ابن أبي عدي عن ابن عون عن محمد قال: سألته عن السبق في النصال، فلم ير به بأسًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے محمد سے تلوار بازی وتیز اندزی میں مسابقہ کے متعلق دریافت کیا ؟ انہوں نے اس میں کوئی حرج نہ سمجھا۔
٣٥٨١٥ - حدثنا وكيع قال: ثنا نافع (١) بن عمر قال: سألت عمرو بن دينار عن السبق فقال: كل وأطعمني.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع بن عمر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمرو بن دینار رحمہ اللہ سے مسابقہ کے انعام کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا (کوئی حرج نہیں) خود بھی کھاؤ مجھے بھی کھلاؤ۔
٣٥٨١٦ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن ليث عن مجاهد قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا تحضر الملائكة شيئا من لهوكم إلا الرهان والنصال" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : فرشتے تمہارے کسی بھی کھیل میں حاضر نہیں ہوئے سوائے گھڑ سواری اور تلواری بازی اور تیز اندازی کے۔