٣٥٨١٧ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن أبي إسحاق عن رجل من مزينة أو جهينة قال: سمع النبي ﷺ قوما يقولون في شعارهم: يا حرام، فقال: "يا حلال" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قوم کا نعرہ (یا حرام) سنا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یاحلال۔
٣٥٨١٨ - حدثنا وكيع قال: ثنا عكرمة (بن) (١) عمار عن إياس بن سلمة عن ⦗٥٠١⦘ أبيه قال: غزونا مع أبي بكر هوازن فكان شعارنا: أمت أمت (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ھوازن کی جنگ میں شریک ہوئے اور ہمارا نعرہ امت امت تھا۔
٣٥٨١٩ - حدثنا وكيع قال: ثنا أبو العميس عن إياس بن سلمة عن أبيه قال: كان شعارنا مع خالد بن الوليد: أمت أمت (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہمارا نعرہ امت امت تھا۔
٣٥٨٢٠ - حدثنا وكيع قال: ثنا هشام بن عروة عن أبيه قال: كان شعار المسلمين يوم مسيلمة: يا أصحاب سورة البقرة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مسیلمہ کے خلاف جنگ میں مسلمانوں کا نعرہ تھا، اے سورة البقرہ والو۔
٣٥٨٢١ - حدثنا وكيع قال: ثنا مالك عن طلحة بن (مصرف) (١) اليامي قال: لما انهزم المسلمون يوم حنين نودوا يا أصحاب سورة البقرة، فرجعوا ولهم (خنين) (٢) -يعني بكاء (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جنگ حنین میں جب مسلمان پسپا ہوئے تو انہیں اے سورة البقرہ والو کہہ کر پکارا گیا جب وہ واپس پلٹے تو وہ رو رہے تھے۔
٣٥٨٢٢ - حدثنا سليمان بن حرب قال: ثنا غالب بن سليمان (أبو) (١) صالح قال: ثنا الزبير بن صراخ قال: قال لنا مصعب بن الزبير ونحن مصافي المختار: ليكن شعاركم: حم لَا يُنْصَرُون، فإنه كان شعار النبي ﷺ (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زبیر بن صراخ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت مصعب بن زبیر رضی اللہ عنہ نے ہم سے فرمایا تمہارا نعرہ حم لا ینصرون ہونا چاہیے کیوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بھی یہی شعار تھا۔
٣٥٨٢٣ - حدثنا أبو معاوية عن حجاج عن قتادة عن الحسن عن عبد اللَّه ابن عمرو قال: كان شعار الأنصار عبد اللَّه وشعار المهاجرين عبد الرحمن (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ بن عمرو فرماتے ہیں انصار کا نعرہ عبد اللہ اور مہاجرین کا نعرہ عبدالرحمن تھا۔
٣٥٨٢٤ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن الأجلح عن أبي إسحاق عن البراء قال: قال رسول اللَّه: "إنكم تلقون العدو غدا فإن شعاركم: (حم) (١) لا يُنْصَرُون" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت البراء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کل تمہاری دشمن سے ملاقات ہوگی اور تمہارا نعرہ حم لا ینصرون ہوگا۔
٣٥٨٢٥ - حدثنا وكيع قال: ثنا شريك عن أبي إسحاق أن النبي ﷺ بعث طلحة (سرية) (١) هي عشرة فقال: شعاركم يا عشر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کو ایک سریہ میں بھیجا جس میں دس افراد تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا نعرہ یا عشر ہے۔
٣٥٨٢٦ - حدثنا علي بن مسهر عن عبد الرحمن بن إسحاق عن النعمان بن سعد قال: سمعت المغيرة بن شعبة يقول قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "شعار المسلمين يوم القيامة على الصراط: اللهم سلم سلم" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیامت کے دن پل صراط پر مسلمانوں کا نعرہ اللھم سلم، سلم ہوگا۔
٣٥٨٢٧ - حدثنا يزيد قال: أخبرنا حجاج عن قتادة عن الحسن عن سمرة بن جندب قال: كان شعار المهاجرين عبد اللَّه، وشعار الأنصار عبد الرحمن (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مہاجرین کا نعرہ عبد اللہ اور حضرات انصار کا نعرہ عبدالرحمن تھا۔