کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس آدمی کا بیان جو مر جائے اور اپنے بیٹے، باپ اور مولیٰ کو چھوڑ جائے پھر مولیٰ مرے اور مال چھوڑ جائے
٣٣٦٦٥ - حدثنا عبدة بن سليمان عن سعيد عن قتادة عن شريح وزيد بن ثابت في رجل مات وترك ابنه وأباه ومولاه ثم مات المولى وترك مالًا؟ فقال شريح: لأبيه السدس وما بقي فللابن.
مولانا محمد اویس سرور
قتادہ حضرت شریح اور زید بن ثابت سے اس آدمی کے بارے میں روایت کرتے ہیں جو مرجائے اور اپنے بیٹے اور باپ اور مولیٰ کو چھوڑ جائے، پھر مولیٰ مرجائے اور مال چھوڑ جائے، حضرت شریح نے فرمایا کہ اس کے باپ کے لئے مال کا چھٹا حصّہ اور باقی بیٹے کے لئے ہے، اور زید بن ثابت فرماتے ہیں کہ مال بیٹے کے لیے ہے اور باپ کے لئے کچھ نہیں۔
٣٣٦٦٧ - حدثنا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم قال: سألته عن رجل أعتق مملوكًا له (فمات) (١) ومات المولى وترك الذي أعتقه أباه وابنه، (٢) فقال إبراهيم: (لأبيه) (٣) السدس، وما بقي فهو لابنه.
مولانا محمد اویس سرور
مغیرہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے اس آدمی کے بارے میں سوال کیا کہ جس نے اپنے غلام کو چھوڑا، پھر وہ مرگیا اور مولیٰ مرگیا اور جس نے آزاد کیا تھا اس نے اپنے باپ اور بیٹے کو چھوڑا، تو ابراہیم نے فرمایا کہ اس کے باپ کے لئے مال کا چھٹا حصّہ اور باقی اس کے بیٹے کے لئے ہے۔
٣٣٦٦٨ - حدثنا هشيم عن منصور عن الحسن قال: هو للابن.
مولانا محمد اویس سرور
منصور حسن سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ وہ بیٹے کے لیے ہے۔
٣٣٦٦٩ - حدثنا هشيم عن محمد بن سالم عن الشعبي أنه كان يقول ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
محمد بن سالم شعبی سے روایت کرتے ہیں کہ وہ بھی یہی فرماتے تھے۔
٣٣٦٧٠ - حدثنا هشيم عن شعبة قال: سمعت الحكم وحمادا يقولان: هو للابن.
مولانا محمد اویس سرور
شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حکم اور حماد کو فرماتے سنا کہ وہ بیٹے کے لئے ہے۔
٣٣٦٧١ - حدثنا وكيع قال: حدثنا شعبة قال: سألت الحكم وحمادًا و (أبا) (١) إياس (٢) معاوية بن قرة عن امرأة أعتقت غلاما لها ثم ماتت وتركت أباها وابنها (فقالوا) (٣): الولاء للابن.
مولانا محمد اویس سرور
شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حکم اور حماد اور ابو ایاس معاویہ بن قرہ سے اس عورت کے بارے میں سوال کیا جس نے اپنے غلام کو آزاد کیا تھا، پھر وہ مرگئی اور اپنے باپ اور بیٹے کو چھوڑ گئی، ان سب نے فرمایا کہ ولاء بیٹے کے لئے ہے ، اور ابو ایاس نے اس طرح فرمایا کہ ولاء اس کی اولاد کے لئے ہے جب تک ان میں باقی رہے۔
٣٣٦٧٣ - حدثنا وكيع قال ثنا سفيان عن ابن جريج عن عطاء قال: الولاء للابن.
مولانا محمد اویس سرور
ا بن جریج عطاء سے روایت کرتے ہیں کہ ولاء بیٹے کے لئے ہے۔
٣٣٦٧٤ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان قال: بلغني عن زيد بن ثابت أنه قال: الولاء للابن (١).
مولانا محمد اویس سرور
سفیان فرماتے ہیں کہ مجھے زید بن ثابت سے یہ بات پہنچی ہے فرمایا کہ ولاء بیٹے کے لئے ہے۔
٣٣٦٧٥ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان (عن حماد) (١) قال: الولاء للابن.
مولانا محمد اویس سرور
سفیان حماد سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ ولاء بیٹے کے لئے ہے، اور یہی سفیان کا قول ہے۔
٣٣٦٧٧ - حدثنا وكيع قال: ثنا شعبة عن أبي معشر قال: كان إبراهيم يقول: للأب سدس الولاء، وللابن خمسة أسداس الولاء.
مولانا محمد اویس سرور
ابو معشر فرماتے ہیں کہ ابراہیم فرماتے تھے کہ باپ کے لئے ولاء کا چھٹا حصّہ اور بیٹے کے لئے بقیہ پانچ حصّے ہیں، شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابو معشر سے کہا کیا آپ نے ابراہیم کو یہ فرماتے سنا ہے ؟ فرمایا کہ میں نے سنا ہے، اور مغیرہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابراہیم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے۔
٣٣٦٧٨ - قال شعبة: قلت لأبي معشر: أسمعته من إبراهيم يقوله؟ قال: سمعته، وقال مغيرة: سمعته من إبراهيم يقوله.
٣٣٦٧٩ - حدثنا هشيم عن الشيباني عن الشعبي عن شريح أنه كان يقول: الولاء بمنزلة المال.
مولانا محمد اویس سرور
شعبی روایت کرتے ہیں کہ شریح فرماتے تھے کہ ولاء مال کی طرح ہے۔
٣٣٦٨٠ - حدثنا وكيع قال: ثنا أبو عاصم عن الشعبي عن شريح أنه كان يجري الولاء مجرى المال.
مولانا محمد اویس سرور
شعبی دوسری سند سے شریح سے روایت کرتے ہیں کہ وہ ولاء کو مال کے قائم مقام قرار دیتے تھے۔