کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ان حضرات کا بیان جو دادی کو بیٹے کے زندہ ہوتے ہوئے وارث نہیں بناتے تھے
٣٣٤٣٦ - حدثنا عبد الأعلى عن سعيد عن قتادة عن سعيد بن المسيب عن زيد ابن ثابت قال، (منعها) (١) ابنها الميراث (٢).
مولانا محمد اویس سرور
سعید بن مسیب حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ دادی کو اس کا بیٹا وراثت سے روک دیتا ہے۔
٣٣٤٣٧ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري أن عثمان كان لا يورث الجدة أم الأب وابنها حي (١).
مولانا محمد اویس سرور
زہری کہتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ دادی کو اس کے بیٹے کے زندہ ہوتے ہوئے وارث نہیں بناتے تھے، زہری فرماتے ہیں کہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کا بیٹا فوت ہوا تو انہوں نے ( ان کی دادی کو ) وارث نہیں بنایا۔
٣٣٤٣٩ - حدثنا ابن فضيل عن بسام عن فضيل قال: قال إبراهيم: لا (ترث) (١) الجدة مع ابنها إذا كان حيًا في قول علي وزيد (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ دادی حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت زید رضی اللہ عنہ کے فرمان کے مطابق اپنے بیٹے کے زندہ ہونے کی حالت میں وارث نہیں ہوتی۔ حضرت ابوبکر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت وکیع کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ محدثین اس پر متفق ہیں۔
٣٣٤٤١ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن عامر قال: لم يورث أحد من أصحاب النبي ﷺ الجدة مع ابنها إلا ابن مسعود (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے علاوہ کوئی بھی دادی کو اس کے بیٹے کے زندہ ہوتے ہوئے وارث نہیں بناتا تھا۔
٣٣٤٤٢ - حدثنا يزيد بن هارون عن ابن أبي عروبة عن قتادة عن سعيد بن المسيب أن زيدًا لم (يكن) (١) يجعل للجدة مع ابنها ميراثًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ حضرت زید رضی اللہ عنہ دادی کو اس کے بیٹے کے ہوتے ہوئے میراث نہیں دلاتے تھے۔
٣٣٤٤٣ - حدثنا يزيد عن محمد بن سالم عن الشعبي عن علي وزيد أنهما لم يكونا يجعلان للجدة مع ابنها ميراثًا (١).
مولانا محمد اویس سرور
شعبی روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت زید رضی اللہ عنہ دادی کو اس کے بیٹے کے زندہ ہوتے ہوئے وارث نہیں بناتے تھے۔