کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: خالہ اور پھوپھی کا بیان، اور ان حضرات کا بیان جو ان کو وارث قرار دیتے ہیں
٣٣١٩٠ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن عاصم عن زر عن عمر أنه قسم المال بين عمة وخالة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زر حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے مال پھوپھی اور خالہ کے درمیان تقسیم فرمایا ۔
٣٣١٩١ - حدثنا ابن إدريس عن داود عن الشعبي عن زياد قال: إني لأعلم (ما) (١) صنع عمر، جعل العمة بمنزلة الأب، والخالة بمنزلة الأم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
زیاد فرماتے ہیں کہ بیشک میں جانتا ہوں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں کیا عمل فرمایا، انہوں نے پھوپھی کو باپ کے قائم مقام قرا ر دیا اور خالہ کو ماں کے برابر قرار دیا۔
٣٣١٩٢ - حدثنا وكيع عن يزيد بن إبراهيم عن الحسن عن عمر قال: للعمة الثلثان وللخالة الثلث (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھوپھی کے لئے دو تہائی مال ہے اور خالہ کے لئے ایک تہائی مال ہے۔
٣٣١٩٣ - حدثنا وكيع عن سفيان عن سليمان العبسي عن رجل عن علي أنه كان يقول: في العمة والخالة يقول عمر: للعمة الثلثان، وللخالة الثلث (١).
مولانا محمد اویس سرور
سلیمان عبسی ایک آدمی کے واسطے سے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ پھوپھی اور خالہ کے بارے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے موافق ارشاد فرماتے تھے کہ پھوپھی کے لیے دو تہائی مال اور خالہ کے لئے ایک تہائی مال ہے۔
٣٣١٩٤ - حدثنا وكيع عن يونس عن الشعبي عن مسروق أنه كان ينزل العمة بمنزلة الأب والخالة بمنزلة الأم.
مولانا محمد اویس سرور
شعبی حضرت مسروق سے روایت کرتے ہیں کہ وہ پھوپھی کو باپ کے قائم مقام ٹھہراتے تھے اور خالہ کو ماں کے قائم مقام۔
٣٣١٩٥ - حدثنا ابن إدريس (١) عن الأعمش عن إبراهيم قال: كان عمر وعبد اللَّه يورثان الخالة والنعمة إذا لم يكن غيرهما (٢).
مولانا محمد اویس سرور
اعمش ابراہیم سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ خالہ اور پھوپھی کو وارث ٹھہراتے تھے جب ان کے علاوہ کوئی اور وارث نہ ہو، ابراہیم فرماتے ہیں کہ وہ حضرا ت پھوپھی کو باپ کے قائم مقا م اور خالہ کو ماں کے قائم مقام رکھتے تھے۔
٣٣١٩٧ - حدثنا وكيع عن عمر بن (بشير) (١) الهمداني عن الشعبي عن ابن مسعود أنه كان يقول في الخالة والنعمة: للعمة الثلثان وللخالة الثلث (٢).
مولانا محمد اویس سرور
شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ خالہ اور پھوپھی کے بارے میں فرماتے ہیں کہ پھوپھی کے لئے دو تہائی مال اور خالہ کے لئے ایک تہائی مال ہے۔
٣٣١٩٨ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن منصور ومغيرة عن إبراهيم قال: كانوا يورثون بقدر أرحامهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت منصور اور مغیرہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم نے فرمایا کہ صحابہ کرام ان کی رشتہ داریوں کے مطابق ان کو وارث ٹھہرایا کرتے تھے۔
٣٣١٩٩ - حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن يونس عن الحسن أن عمر ورث الخالة والنعمة، فورث العمة الثلثين والخالة الثلث (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خالہ اور پھوپھی کو وارث بنایا اور پھوپھی کو دو تہائی مال دلایا اور خالہ کو ایک تہائی مال۔
٣٣٢٠٠ - حدثنا سويد بن عمرو قال: ثنا أبو عوانة عن مغيرة عن إبراهيم قال: قال ابن مسعود: للعمة الثلثان وللخالة الثلث (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ پھوپھی کے لئے دو تہائی مال اور خالہ کے لئے ایک تہائی مال ہے۔
٣٣٢٠١ - حدثنا وكيع قال: ثنا هشام بن (سعد) (١) عن زيد بن أسلم قال: دعي رسول اللَّه ﷺ إلى جنازة رجل من الأنصار، فجاء على حمار ⦗٢٦٨⦘ فقال: "ما ترك؟ " قالوا: ترك عمة وخالة، قال رسول اللَّه ﷺ: "رجل مات وترك عمة وخالة" ثم سار ثم قال: "مات وترك عمة وخالة" ثم قال: "لم أجد لهما شيئًا" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن اسلم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک انصاری کے جنازے میں بلایا گیا پس آپ رحمہ اللہ ایک گدھے پر سوار ہو کر تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے کون کون سے رشتہ دار چھوڑے لوگوں نے کہا کہ اس نے ایک پھوپھی اور ایک خالہ چھوڑی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ آدمی ہے جو مرا اور مرتے ہوئے ایک پھوپھی اور ایک خالہ چھوڑ گیا پھر تھوڑا چلے اور پھر فرمایا کہ یہ آدمی ہے جس نے مرتے ہوئے پھوپھی اور خالہ کو چھوڑا ہے پھر فرمایا کہ میں ان کے لئے کوئی حصّہ نہیں پاتا۔
٣٣٢٠٢ - حدثنا ابن إدريس عن مالك بن أنس عن محمد بن أبي بكر قال: قال عمر: عجبًا للعمة تورث ولا ترث (١).
مولانا محمد اویس سرور
محمد بن ابی بکر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ پھوپھی کا عجیب حال ہے کہ دوسرے رشتہ دار تو اس کے وارث بنتے ہیں مگر وہ کسی کی وارث نہیں بنتی۔
٣٣٢٠٣ - حدثنا عبدة عن محمد بن عمرو عن شريك بن عبد اللَّه بن أبي نمر قال: سئل النبي ﷺ عن ميراث العمة والخالة وهو راكب فسكت ثم سار هنيهة ثم قال: "حدثني جبريل أنه لا ميراث لهما" (١).
مولانا محمد اویس سرور
شریک بن عبد اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پھوپھی اور خالہ کی میراث کے بارے میں سوال کیا گیا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر کے لئے خاموش ہوگئے پھر تھوڑا چلے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ سے جبرائیل علیہ السلام نے بیان کیا ہے کہ ان کا وراثت میں کوئی حق نہیں۔
٣٣٢٠٤ - حدثنا محمد بن أبي عدي عن أشعث عن الحسن أنه كان يرى الميراث للموالي دون العمة والخالة.
مولانا محمد اویس سرور
اشعث فرماتے ہیں کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہاقاؤں کے لئے میراث کے تو قائل تھے لیکن پھوپھی اور خالہ کے لیے میراث کے قائل نہیں تھے۔