کتب حدیث › مصنف ابن ابي شيبه › ابواب › باب: اس چھوٹے بچہ کا بیان جس کا دانت توڑ دیا جائے
❮
❯
٢٩٣٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن حجاج عن جندب (القاص) (١) (٢) عن أسلم (مولى) (٣) عمر عن عمر أنه قضى في سن الصبي إذا (سقطت) (٤) قبل أن يثغر (ببعير) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسلم جو کہ حضرت عمر کے آزاد کردہ غلام ہیں وہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے بچے کے دانت میں ایک اونٹ کا فیصلہ فرمایا جب کہ وہ پوری طرح نکلنے سے پہلے ہی توڑ دیا جائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29333
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29333، ترقيم محمد عوامة 28102)
٢٩٣٣٤ - حدثنا أبو بكر قال. حدثنا شريك عن جابر عن عامر قال: ليس في سن الصبي إذا لم يثغر إلا الألم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ حضرت عامر شعبی نے ارشاد فرمایا : بچہ کے دانت میں جب کہ وہ نکلنے سے پہلے ہی توڑ دیا گیا درد کے سوا کچھ لازم نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29334
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29334، ترقيم محمد عوامة 28103)
٢٩٣٣٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (١) عبد الرحيم (عن) (٢) ابن سا لم عن الشعبي قال: إذا أصاب سنه ولم (يثغر) (٣) ففيه حكم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سالم فرماتے ہیں کہ حضرت شعبی نے ارشاد فرمایا : جب بچہ کا دانت توڑ دیا جائے اس حال میں کہ وہ نکلا نہیں تھا تو اس میں قاضی کا فیصلہ ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29335
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29335، ترقيم محمد عوامة 28104)
٢٩٣٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: قال ابن شهاب في غلام صغير لم يثغر كسر (سن) (١) غلام آخر، قال: عليه الغرم (بقدر) (٢) ما يرى الحكم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ حضرت ابن شہاب نے ایسے چھوٹے بچہ کے بارے میں جس کا دانت نہ نکلا ہو اور اس نے کسی دوسرے بچہ کا دانت توڑ دیا۔ آپ نے یوں ارشاد فرمایا : اس پر تاوان لازم ہوگا جو فیصلہ کنندہ مناسب سمجھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29336
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29336، ترقيم محمد عوامة 28105)
٢٩٣٣٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سهل بن يوسف عن عمرو عن الحسن قال: في سن الصبي إذا لم يثغر، قال: ينظر فيه (ذوا) (١) عدل، (فإن) (٢) نبتت جعل له شيء، وإن لم تنبت كان كسن الرجل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو فرماتے ہیں کہ حسن بصری نے بچہ کے دانت کے بارے میں جبکہ وہ نکلا ہو یوں ارشاد فرمایا : اس بارے میں دو عادل دیکھیں گے اگر دانت نکل آیا تو اس کے لیے کوئی چیز مقرر کردیں گے اور اگر دانت نہ نکلا تو وہ آدمی کے دانت کی مانند ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29337
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29337، ترقيم محمد عوامة 28106)