٢٦٨٧٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا زيد بن الحباب قال: حدثني يحيى بن أيوب قال: أخبرني عياش بن عباس (الحميري) (١) عن أبي الحصين (الحجري) (٢) الهيثم عن عامر الحجري قال: سمعت أبا ريحانة صاحب النبي ﷺ (يقول: كان النبي ﷺ) (٣) ينهى عن ركوب النمور (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر حجری سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی حضرت ابو ریحانہ کو کہتے سُنا کہ جنا ب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، چیتوں (کی کھالوں) پر سوار ہونے سے منع کیا کرتے تھے۔
٢٦٨٧٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن أبي المعتمر عن ابن سيرين عن معاوية أن رسول اللَّه ﷺ نهى عن ركوب الخز والنمور (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معاویہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چیتوں (کی کھالوں) اور خز کپڑے پر سوار ہونے سے منع کیا۔ حضرت ابن سیرین کہتے ہیں۔ حضرت معاویہ کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث کے بارے میں متہم نہیں کیا جاسکتا۔
٢٦٨٨١ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): حدثنا (أبو) (٢) خالد الأحمر عن (حجاج) (٣) عن أبي الزبير عن جابر قال: لا بأس بجلود النمور إذا دبغت (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ چیتوں (کی کھالوں) کو جب دباغت دے دی جائے تو پھر کوئی حرج نہیں۔
٢٦٨٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة عن هشام (أن) (١) (أباه) (٢) كان يكون على سروجه النمور (أو) (٣) جلود السباع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام سے روایت ہے۔ کہ ان کے والد، اپنی زینوں پر چیتوں یا درندوں کی کھالوں کو رکھا کرتے تھے۔
٢٦٨٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن ابن عون قال: ذكر عند محمد جلود النمور فقال: إنما يكره أن يصلى عليها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضر ت محمد کے ہاں چیتوں کی کھالوں کا ذکر ہوا تو انہوں نے فرمایا : ان پر صرف نماز پڑھنا مکروہ ہے۔ اور محمد ان پر سوار ہونے میں کوئی حرج نہیں دیکھتے تھے۔ اور فرماتے تھے۔ میرے علم کے مطابق کسی نے اس کو گناہ سمجھتے ہوئے نہیں چھوڑا۔
٢٦٨٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (ابن) (١) علية عن علي بن الحكم قال: سألت الحكم عن جلود النمور فقال: (تكره) (٢) جلود السباع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ بن حکم سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم سے چیتوں کی کھالوں کے بارے میں سوال کیا ؟ تو انہوں نے فرمایا۔ درندوں کی کھالیں مکروہ ہیں۔
٢٦٨٨٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن نمير عن الحجاج عن الحكم أن عمر كتب إلى أهل الشام ينهاهم أن يركبوا على جلود السباع (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم سے روایت ہے کہ حضرت عمر نے اہل شام کو خط لکھا اور آپ نے ان کو درندوں کی کھالوں پر سوار ہونے سے منع فرمایا۔
٢٦٨٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مبارك عن أشعث (عن ابن سيرين) (١) أن ابن مسعود استعار (دابة) (٢) فأتي بها (عليها) (٣) صفة نمور (٤) فنزعها ثم ركب (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین سے روایت ہے کہ حضرت ابن مسعود نے ایک سواری مستعار منگوائی۔ پس وہ آپ کے پاس لائی گئی تو اس پر چیتے کا سائبان تھا۔ آپ نے اس کو اتارا۔ پھر اس پر سوار ہوئے۔