٢٥٦٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن (أبي عدي عن ابن) (١) عون قال: سئل محمد عن فضيخ البسر وحده، (قال:) (٢) لا أدري ما هو.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ حضرت محمد سے کھولی ہوئی گندم کی علیحدہ نبیذ کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : مجھے معلوم نہیں ہے کہ وہ کیا ہے۔
٢٥٦٢١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن حاتم بن أبي صغيرة عن أبي مصعب المدني قال: سمعت (أبا) (١) هريرة يقول: كنا نأخذ البسر فنفضخه ثم نشربه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مصعب مدنی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ کو یہ کہتے ہوئے سُنا ، ہم لوگ گندم لیتے اور اس کو کھول لیتے پھر اس ہم اس کو پیتے تھے۔
٢٥٦٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك عن جابر عن عكرمة أن النبي ﷺ شرب الفضيخ عند مسجد الفضيخ (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد فضیح کے پاس فضیح (گندم کھول کر بنائی گئی نبیذ) نوش فرمائی تھی۔
٢٥٦٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو داود الطيالسي عن هشام عن قتادة عن سعيد بن المسيب والحسن (قالا) (١): (لا بأس) (٢) أن يفتضخ العذق بما فيه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ، جناب سعید بن مسیب اور جناب حسن کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ غلے کو کھول کر نبیذ بنانے میں کچھ حرج نہیں۔
٢٥٦٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن فضيل عن (مسحاج) (١) قال: سمعت أنسا وهو يأمر خادمه أن يقطع الرطب من البسر، فينبذ كل واحد منهما على حدة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسحاج سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس کو کہتے سُنا جبکہ وہ اپنے خادم کو اس بات کا حکم دے رہے تھے کہ وہ پختہ کھجوروں کو نیم پختہ کھجوروں سے کاٹ ڈالے اور پھر ا ن میں سے ہر ایک کی علیحدہ نبیذ بنائے۔
٢٥٦٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن خالد عن عكومة أنه كره الفضيخ، وإن كان محضًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد، جناب عکرمہ کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ وہ فضیخ کو ناپسند کرتے تھے اگرچہ خالص فضیخ ہی ہو۔
٢٥٦٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن هشام عن قتادة عن سعيد بن المسيب قال: لا بأس (بالتذنوب) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ تذنوب (دُم پکی ہوئی) کھجور میں کوئی حرج نہیں ہے۔