کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: کوئی شخص کسی کے پاس رہن رکھوائے اور مرتہن کے پاس کچھ حصہ ضائع ہو جائے
٢٤٤٢١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا [هشيم] عن أشعث عن الشعبي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ اور ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جتنا حصہ رہن ضائع ہوگا اسی حساب سے قرض کم کیا جائے گا۔
٢٤٤٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن سعيد عن أشعث عن الحسن قال: (سألته) (١) عن رجل ارتهن دارًا فاحترقت، قال: حقه فيما ذهب، وحقه فيما بقي.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص گھر میں رہن رکھوایا تھا وہ جل کر ختم ہوگیا ؟ فرمایا جو ضائع ہوگیا اس میں مرتھن کا حق ہے اور جو باقی بچ گیا ہے اس میں راہن کا حق ہے۔
٢٤٤٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن حماد بن سلمة [عن قتادة في رجل ارتهن (دارًا) (١) فاحترقت، قال: حقه في العرصة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ فرماتے ہیں اُ س شخص کے متعلق جس نے گھر رہن رکھوایا تھا اور وہ جل کر ختم ہوگیا، فرمایا : اس کا حق گھروں کے درمیان جو خالی جگہ ہوتی ہے اس میں ہے۔
٢٤٤٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا حماد بن سلمة] (١) عن حماد عن إبراهيم في رجل رهن ثوبًا (فاتكل) (٢) قال: يلقي (عنه) (٣) بقدر ما نقص من قيمة الثوب.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں جس نے کپڑا رہن رکھوایا اور اس میں کچھ پھٹ گیا ، فرمایا کپڑے کی جتنی قیمت کم ہوچکی ہے اس کے بقدر قرضہ کم دے گا۔