کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: رہن جب مرتہن کے پاس ہو تو پھر وہ باقی قرض خواہوں سے زیادہ حق دار ہے
٢٤٤٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن جابر عن عامر قال: إذا قبض المرتهن الرهن ثم مات الراهن وعليه دين، فهو أحق به من الغرماء حتى يستوفي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ جب مرتہن رہن پر قبضہ کرلے، پھر راہن فوت ہوجائے اور اس پر قرضہ ہو تو وہ باقی قرض خواہوں سے زیادہ حق دار ہے۔
٢٤٤٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا إسرائيل عن جابر عن عطاء وسالم وعامر قالوا: إذا مات الراهن وعليه دين، فالمرتهن أحق به من الغرماء حتى يستوفي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء ، حضرت سالم اور حضرت عامر سے اسی طرح مروی ہے۔
٢٤٤٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن الحسن عن مطرف عن الحكم في الرجل يرهن الرهن ثم يموت صاحبه ولا يدع مالا غير الرهن، وعليه دين سوى (دين) (١) صاحب الرهن، قال: المرتهن أحق بالرهن من غرماء الميت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم سے دریافت کیا گیا کسی شخص نے رہن رکھوایا پھر وہ فوت ہوگیا، اور رہن کے علاوہ کوئی اور مال نہیں چھوڑا، اور اس پر رہن کے علاوہ بھی قرضہ ہے ؟ آپ نے فرمایا : میت کے قرض خواہوں میں سے رہن کا زیادہ حق دار مرتہن ہے۔
٢٤٤٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن هشام عن الحسن قال: إن الرهن المقبوض إذا مات صاحبه أو أفلس فالذي (هو في يده) (١) أحق به، فإن لم يكن مقبوضا فهو بين الغرماء.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اگر رہن پر قبضہ ہو اور اس کا مالک فوت ہوجائے یا مفلس ہوجائے تو جس کا قبضہ ہے وہ زیادہ اس کا حق دار ہے اور اگر قبضہ نہ ہو تو وہ قرض خواہوں میں تقسیم ہوگا۔