٢٤٣٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن عمرو بن ميمون عن (عمر) (١) بن عبد العزيز أنه أجاز شهادة مجوسي على يهودي أو نصراني.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے مجوسی کی یہودی اور نصرانی کے خلاف گواہی قبول کی۔
٢٤٣٦٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن أبي حصين عن يحيى بن وثاب عن شريح أنه كان يجيز شهادة أهل الكتاب بعضهم على بعض.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح اہل کتاب میں سے بعض کی گواہی بعض پر قبول فرماتے تھے۔
٢٤٣٦١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (وكيع قال: حدثنا) (١) سفيان عن عيسى ابن أبي عزة عن عامر أنه أجاز شهادة يهودي على نصراني أو نصراني على يهودي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر نے یہودی کی نصرانی پر اور نصرانی کی یہودی پر گواہی قبول فرمائی۔
٢٤٣٦٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا خالد بن عبد الرحمن ابن بكير السلمي عن ابن سيرين قال: شهدت شريحا أجاز شهادة قوم من أهل الشرك بعضهم على بعض (بخفافهم نقع) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ میں حضرت شریح کی خدمت میں حاضر تھا، آپ نے مشرکوں میں سے بعض کے قدموں پر غبار دیکھ کر ان کی گواہی قبول فرمائی۔
٢٤٣٦٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا زيد بن حباب عن عون (بن) (١) معمر عن إبراهيم الصائغ قال: سألت (نافعًا) (٢) عن شهادة أهل الكتاب بعضهم على بعض، فقال: تجوز.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم الصائغ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت نافع سے اہل کتاب میں بعض کی بعض کے حق میں گواہی کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا جائز ہے۔
٢٤٣٦٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن شعبة قال: سألت حمادًا فقال: أهل الشرك جميعًا تجوز شهادة بعضهم على بعض.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد سے دریافت کیا گیا ؟ آپ نے فرمایا : مشرکوں میں سے بعض کی گواہی بعض پر قابل قبول ہے۔
٢٤٣٦٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: (قال) (١) سفيان: الإسلام ملة والشرك ملة، تجوز شهادة بعضهم على بعض.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ اسلام ایک مذہب ہے، اور کفر پورا ایک ملت و مذہب ہے۔ ان میں سے بعض کی گواہی بعض پر قبول ہے۔ حضرت وکیع فرماتے ہیں کہ ہم اسی طرح کہتے ہیں۔