٢٣١٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن حجاج عن نافع قال: كان زيد (بن ثابت) (١) لا يأخذ على القضاء أجرًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ قضاء پر اجرت لیتے تھے۔
٢٣١٨٤ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن سعيد عن الأعمش عن القاسم عن مسروق أنه كان لا يأخذ على القضاء أجرًا] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق رحمہ اللہ قضاء پر اجرت نہیں لیتے تھے۔
٢٣١٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن (مروان) (١) البصري عن يونس ابن أبي الفرات عن الحسن قال: أكره أن آخذ على القضاء أجرًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں قضاء پر اجرت لینے کو ناپسند کرتا ہوں۔
٢٣١٨٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي (حصين) (١) عن القاسم عن عمر قال: لا ينبغي لقاضي المسلمين أن يأخذ أجرًا ولا صاحب مغنمهم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کے قاضی کے لئے اجرت لینا مناسب نہیں ہے، اور نہ ہی ان کے مال غنیمت والے کے لئے۔
٢٣١٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون عن هشام عن محمد أنه كان لا يرى بأسًا أن يأخذ القاضي رزقًا من بيت مال المسلمين.
مولانا محمد اویس سرور
محمد رحمہ اللہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ قاضی بیت المال سے اجرت وصول کرے۔
٢٣١٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا الفضل بن دكين عن حسن بن صالح عن ابن أبي ليلى قال: بلغنا -أو قال: بلغني- أن عليًا رزق شريحًا خمسمائة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی لیلیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت شریح رحمہ اللہ کی پانچ سو درہم اجرت (تنخواہ) مقرر فرمائی تھی۔