٢٢٩٣١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد السلام بن (حرب) (١) عن مغيرة عن إبراهيم وعامر في الرجل يتزوج الأمة فتلد منه ثم يشتريها، قالا: يبيعها ما لم تلد في ملكه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اور حضرت عامر رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا کہ آدمی باندی سے نکاح کرے پھر اس سے اس کا بچہ ہوجائے پھر وہ اس کو خرید بھی لیتا ہے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ دونوں حضرات نے فرمایا : وہ اس کو فروخت کرسکتا ہے جب تک اس نے اس کی ملکیت میں بچہ نہ جنا ہو ۔
٢٢٩٣٢ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد السلام عن ليث عن طاوس قال: يبيعها] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ وہ اس کو خرید ( بیچ ) سکتا ہے۔
٢٢٩٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد السلام عن سعيد عن قتادة عن الحسن قال: هي أم ولد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ اس کی ام ولد ہے۔
٢٢٩٣٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن حماد قال: لا يبيعها هي بمنزلة أم ولد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد فرماتے ہیں اس کو نہ فروخت کرے وہ اس کی ام ولد ہے۔