کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ قبضہ کرنے سے قبل آگے بیع مت کرو
٢٢٦٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن عبد العزيز بن رفيع عن عطاء عن حزام بن حكيم قال: قال لي حكيم: ابتعت طعامًا من طعام ⦗٤٦⦘ الصدقة فربحت فيه قبل أن أقبضه فأتيت النبي ﷺ فقال: " (لا تبعه) (١) حتى تقبضه" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکیم فرماتے ہیں کہ میں نے قبضہ کرنے سے پہلے صدقات کی گندم میں سے کچھ گندم فروخت کی، مجھے اس میں نفع ہوا۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قبضہ کرنے سے پہلے آگے بیع مت کیا کرو۔
٢٢٦٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر وابن أبي زائدة (كلاهما) (١) عن عبيد اللَّه عن نافع (عن ابن عمر) (٢) قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إذا ابتاع أحدكم طعاما فلا (يبعه) (٣) حتى (يكيله) (٤) " (قال ابن أبي زائدة: ويقبضه) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص بیع کرے تو کیل کرنے سے پہلے بیع نہ کرے، حضرت ابن ابی زائدہ فرماتے ہیں یہ بھی فرمایا کہ جب تک قبضہ نہ کرلے۔
٢٢٦٥٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عباد بن العوام عن حجاج عن عطية عن ابن عمر قال: سألته (عن السلف) (١) في الزبيب و (التمر) (٢) والحنطة والشعير، فقال: لا بأس به، ولكن لا (تبعه) (٣) حتى تقبضه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے تیل ، گھی، گندم اور جَوْ کے بیعانہ کے متعلق دریافت کیا گیا آپ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : کوئی حرج نہیں مگر اس پر قبضہ کرنے سے قبل بیع مت کرنا۔
٢٢٦٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن أيوب عن نافع قال (١): نبئت (أن) (٢) حكيم بن حزام كان يشتري صكاك الرزق فنهاه (عمر) (٣) أن يبيع حتى (يقبض) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے راشن کی پرچی خریدی تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان کو منع فرما دیا کہ اس پر قبضہ کرنے سے قبل اس کو فروخت نہ کرنا۔
٢٢٦٦٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (١) حدثنا محمد بن (بشر) (٢) عن عبيد اللَّه عن نافع عن ابن عمر عن عمر بنحو من حديث أيوب (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع رحمہ اللہ سے اسی طرح مروی ہے۔
٢٢٦٦١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن (إسماعيل) (١) بن أبي خالد عن الشعبي (قال) (٢): إذا ابتعت بيعا أبدا فلا (تبعه) (٣) حتى تقبضه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب تم کوئی چیز خریدو تو جب تک اس پر قبضہ نہ کرلو اس کو آگے فروخت مت کرو۔
٢٢٦٦٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة بن سليمان عن يحيى بن سعيد عن سعيد بن المسيب قال: إذا اشتريت طعاما فلا تبعه حتى تقبضه، ولا يرى (بالشرك) (١) بأسًا أو (تعطيه) (٢) الثمن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب تم گندم وغیرہ خریدو تو جب تک اس پر قبضہ نہ کرلو اس کو آگے فروخت مت کرو، اور شرکت میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے، یا اس کو ثمن عطاء کر دے۔
٢٢٦٦٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن عبد الملك عن عطاء في الرجل يشتري البيع ثم يبيعه قبل أن يقبضه، (قال: لا، حتى يقبضه) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں جو مبیع خریدنے کے بعد قبضہ سے قبل آگے فروخت کرنا چاہتا ہے، فرمایا ایسا مت کرو یہاں تک کہ پہلے اس پر قبضہ کرلو پھر فروخت کرو۔
٢٢٦٦٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن أبيه قال: سمعت إبراهيم سئل عن الرجل يبيع البيع قبل أن يقبضه، فقال: إنما كان ذلك في (الكيل) (١) والوزن.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا کہ کوئی شخص اگر بیع کرنے کے بعد قبضہ سے پہلے آگے فروخت کر دے تو کیسا ہے ؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا یہ کیلی اور وزنی میں درست ہے۔
٢٢٦٦٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن عمرو بن دينار عن طاوس عن ابن عباس قال: (الطعام) (١) الذي نهي عنه لا يباع حتى يقبض، وأحسب كل شيء مثل الطعام (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ طعام کے بارے میں منع کیا گیا ہے کہ اس پر قبضہ کرنے سے قبل اس کو آگے فروخت نہ کرو، اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہر چیز کھانے کی طرح ہی ہے۔ ( اس حکم میں) ۔
٢٢٦٦٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن ميسر عن ابن (جريج) (١) عن الشعبي عن (خارجة) (٢) بن زيد عن زيد بن ثابت، أنه كان ينهى الذين يبتاعون صحف (الجار) (٣) حتى (يستوفوها) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ منع فرماتے ہیں ان لوگوں کو جو پڑوسیوں ( یا شریک کاروں سے ) سے صحف کی بیع کرتے ہیں یہاں تک وہ سپرد کردیں ( اور وہ اس پر قبضہ کرلیں) ۔
٢٢٦٦٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن ابن طاوس عن أبيه عن ابن عباس قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من ابتاع طعامًا فلا (يبعه) (١) حتى ⦗٤٩⦘ يكتاله" (٢)، قلت لابن عباس: (لم قال؟) (٣): ألا ترى أنهم (يبتاعون) (٤) (بالذهب) (٥) والطعام مرجأ (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص طعام خریدے وہ اس کو کیل کرنے سے قبل آگے فروخت نہ کرے، راوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا کہ ایسا کیوں ہے ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا آپ نہیں دیکھتے کہ وہ لوگ سونے کے بدلے اس طرح خریدتے ہیں ( فروخت کرتے ہیں ) کہ طعام مؤخر ہوتا ہے۔
٢٢٦٦٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا زيد بن حباب قال: حدثنا الضحاك بن عثمان قال: أخبرني بكير بن عبد اللَّه بن الأشج عن سليمان بن يسار عن أبي هريرة أن النبي ﷺ قال: "من ابتاع طعاما فلا (يبعه) (١) حتى يكتاله" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص طعام کی بیع کرے وہ کیل کرنے سے قبل اس کی بیع نہ کرے۔