کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: کوئی شخص گندم پر قبضہ کرنے سے پہلے اس میں بیع تولیہ(بغیرنفع کی بیع) کرسکتا ہے؟
٢٢٦٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن سعيد عن التيمي عن الحسن أنه كره أن يولي من الطعام (شيئًا) (١) حتى (يقبضه) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ گندم وغیرہ پر قبضہ سے پہلے بیع تولیہ کرنے کو ناپسند کرتے تھے۔
٢٢٦٥١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن سعيد عن قتادة أنه كان لا يرى بأسًا بتولية الطعام قبل أن يقبض، ويقول: هو معروف.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ گندم پر قبضہ سے پہلے اس کو بیع تولیہ کرنے میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے اور فرماتے ہیں یہ معروف ہے۔
٢٢٦٥٢ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن ابن عون عن محمد أنه كرهه] (١).
مولانا محمد اویس سرور
محمد رحمہ اللہ اس کو ناپسند کرتے تھے۔
٢٢٦٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن سعيد عن وهب العمي عن ⦗٤٥⦘ عطاء، أنه كان لا يرى بأسًا أن يوليه (قبل) (١) أن يقبضه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ بھی قبضہ سے پہلے بیع تولیہ کرنے میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے۔
٢٢٦٥٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد الأحمر عن يحيى (بن) (١) سعيد عن سعيد قال: من اشترى شيئًا بكيل أو وزن فلا (يبعه) (٢) حتى يقبضه، وكان لا يرى بأسًا أن يوليه أو يشرك فيه بغير كيل ولا وزن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جو شخص کیل یا وزن کے ساتھ کوئی چیز خریدے تو قبضہ سے پہلے اس کو آگے فروخت نہ کرے، لیکن بیع تولیہ کرنے میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے، یا وہ بغیر وزن اور کیل کے کسی کو شریک کرلے ۔
٢٢٦٥٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن سليمان بن بلال عن ربيعة عن سعيد بن المسيب رفعه قال: (لا) (١) بأس بالتولية و (الشرك) (٢) قبل أن (يستوفي) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب رحمہ اللہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سپردگی سے قبل ( قبضہ سے پہلے ) بیع تولیہ اور شرکت کرنے میں کوئی حرج نہیں۔