٢٢١٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن طلق بن معاوية قال: كان لي على رجل ثلاثمائة درهم فخاصمته إلى شريح فقال الرجل: إنهم وعدوني أن يحسنوا إلي فقال شريح: ﴿إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا﴾ [النساء: ٥٨]، قال: وأمر بحبسه وما طلبت إليه أن يحبسه حتى صالحني على مائة وخمسين درهمًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طلق بن معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص کے ذمہ میرے تین سو درہم تھے، میں نے اس کے ساتھ حضرت شریح رحمہ اللہ کے سامنے مخاصمہ کیا، اس شخص نے عرض کیا کہ انہوں نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ میرے ساتھ اچھا برتاؤ کریں گے۔ حضرت شریح رحمہ اللہ نے فرمایا : اللہ کا ارشاد ہے : اِن اللّٰہ یأمرکم أن تؤدّوا الأمانات الیی أھلھا۔ اور اس کو قید میں رکھنے کا حکم فرمایا، اور جب تک اس نے میرے ساتھ ڈیڑھ سو درہم پر صلح نہ کرلی میں اس کی قید کا مطالبہ کرتا رہا۔
٢٢١٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن أبي هلال عن ابن سيرين عن شريح أنه كان يحبس في الدين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح رحمہ اللہ قرض کے معاملہ میں قید فرما دیا کرتے تھے۔
٢٢٢٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن مالك بن مِغْول عن سُرّيةِ الشعبي يقال لها أم جعفر عن الشعبي قال: إذا أنا لم أحبس في الدين فأنا (أتويت) (١) حقه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب میں قرض میں قید نہیں کرتا تو میں اپنے حق کو ہلاک کر بیٹھتا ہوں۔
٢٢٢٠١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا زيد بن حباب و (عبيد اللَّه) (١) عن أبي هلال عن غالب القطان عن أبي (المهزم) (٢) أن رجلًا أتى أبا هريرة في غريم له فقال: (احبسه) (٣) قال: قال أبو هريرة: هل تعلم له (عينًا) (٤) فآخذه به؟ قال: لا، قال: فهل تعلم له عقارًا أكسره؟ قال: لا، قال: فما تريد؟ قال: أحبسه، (قال) (٥): لا، ولكني أدعه يطلب لك ولنفسه ولعياله (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مھزم رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک شخص اپنے مقروض کو لے کر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور عرض کیا کہ اس کو قید کروائیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا تجھے معلوم ہے کہ اس کے پاس مال موجود ہے جو میں اس سے لے کر تجھے دوں ؟ اس نے عرض کیا نہیں، آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کیا تجھے معلوم ہے کہ اس کی ملکیت میں بڑی زمین ہے ؟ اس نے عرض کیا کہ نہیں آپ نے پوچھا کہ پھر تو کیا چاہتا ہے ؟ اس نے عرض کیا کہ اس کو قید کریں : آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ میں اس کو چھوڑتا ہوں تاکہ یہ تیرے لئے اپنے لیے اور اپنے اہل و عیال کے لئے روزی کمائے۔
٢٢٢٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبيد اللَّه بن موسى وزيد بن الحباب عن أبي هلال عن غالب عن الحسن قضى بمثل أبي هريرة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرح فیصلہ فرمایا۔
٢٢٢٠٣ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: نا علي بن صالح عن جابر أن عليًا حبس في الدين] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے قرض میں قید فرمایا۔
٢٢٢٠٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن علي بن صالح عن عبد الأعلى قال: شهدت شريحًا حبس رستم (الشديد) (١) في دين.
مولانا محمد اویس سرور
عبدالاعلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں شریح کے پاس حاضر ہوا۔ انہوں نے رستم کو قرض کے بدلہ میں قید کیا۔
٢٢٢٠٥ - قال وكيع: ما أدركنا أحدا من قضاتنا ابن أبي ليلى وغيره إلا وهو يحبس في الدين.