٢٢٠١٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (ابن عيينة) (١) عن عمرو عن طاوس قال: إذا بعت طعاما إلى أجل فحل الأجل فلا (تأخذ) (٢) طعاما.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاوس فرماتے ہیں کہ جب ایک آدمی ایک مقررہ مدت تک غلے کی بیع کرے تو وہ مدت پوری ہوجانے کے بعد خودبخود غلے کو اٹھا نہیں سکتا، حضرت جابر بن زید ابو شعثاء فرماتے ہیں کہ جب تم اپنے دینار خرچ کردو تو جو چاہو لے سکتے ہو۔
٢٢٠١٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن سعيد القطان عن محمد بن عبد اللَّه بن أبي مريم قال: قلت لسعيد بن المسيب: بعت من رجل تمرا آخذ (من ثمن) (١) تمري تمرا؟ قال: لا (تأخذن) (٢) طعاما (مما) (٣) يكال ويوزن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن عبد اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن مسیب سے فرمایا کہ میں نے ایک آدمی کو کھجوریں بیچیں، کیا میں کھجوروں کی قیمت سے کھجوریں خرید سکتا ہوں ؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں، ایسا غلہ نہ لو جسے کیل یا وزن کیا جاتا ہے۔
٢٢٠١٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن أشعث عن عامر قال: إذا بعت طعامًا إلى أجل فحل مالك فخذ به من العروض ما شئت، لا تأخذ طعامًا (إلا طعامك) (١) بعينه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ جب تم نے غلے کو ایک مدت تک کے لئے فروخت کیا، اور تم نے اپنا مال ادا کردیا تو تم اپنے سامان میں سے جو چاہو لے لو، البتہ اگر غلہ لو تو صرف اپنا غلہ ہی لو۔
٢٢٠١٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن علي بن مبارك عن يحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة في رجل باع من رجل غنما إلى أجل، فلما حل الأجل أراد أن يأخذ غنما ويقاصه فكرهه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سلمہ نے اس بات کو مکروہ قرار دیا کہ آدمی دوسرے آدمی کو ایک مدت تک کے لیے ایک ریوڑ فروخت کرے، جب وہ مدت آئے تو وہ ریوڑ کو واپس لے کر بیع کو ختم کرنے کا ارادہ کرے۔
٢٢٠١٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن الحارث وحماد أنهما كانا يكرهان أن يبيع الرجل طعاما (الكر) (١) بأربعين نسأً، ثم يشتري منه طعاما مثله بدون الأربعين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارث اور حضرت حماد نے اس بات کو مکروہ قرار دیا ہے کہ آدمی غلے کا ایک کرّ چالیس میں ادھار پر خریدے اور پھر چالیس کے بغیر اس جیسا غلہ خرید لے۔
٢٢٠١٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة بن سليمان عن سعيد عن قتادة عن طاوس قال: قال ابن عباس: إذا بعت بيعا مما يكال ويوزن إلى أجل، فحل أجلك فلا (تأخذهما، وخذ) (١) ما (خالفهما) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ کوئی کیلی یا موزونی چیز جب ایک مدت تک کے لئے بیچو اور جب وہ مدت آجائے تو ان دونوں کو نہ لو بلکہ ایسی چیز لو جو ان کے مخالف ہو۔
٢٢٠١٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حماد بن خالد عن مالك بن أنس عن أبي الزناد عن سعيد بن المسيب وسليمان بن (يسار) (١) قالا: من باع طعاما بذهب إلى أجل فحل الأجل فلا تأخذ به تمرا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب اور حضرت سلیمان بن یسار فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص ایک مقررہ مدت تک کے لئے سونے کے بدلے غلہ خریدے تو مدت کے آنے پر کھجوریں نہ لے۔
٢٢٠٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن ابن جريج عن عطاء قال: لا تأخذ كيلا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ کیل کرکے نہ لو۔
٢٢٠٢١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إبراهيم (بن) (١) نافع قال: سألت طاوسًا عن رجل باع رجلا (برا) (٢) إلى أجل، فلما حل الأجل: أياخذ (برا) (٣) مكان دراهمه؟ قال: لا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابراہیم بن نافع فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت طاوس سے سوال کیا کہ ایک آدمی نے دوسرے کو گندم ایک مدت تک کے لئے بیچی، جب مدت آئی تو کیا وہ دراہم کی جگہ گندم لے سکتا ہے، انہوں نے فرمایا نہیں۔
٢٢٠٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع (عن سفيان عن جابر) (١) عن عطاء عن ابن عباس قال: لا بأس أن يأخذ برًا مكانه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ دراہم کی جگہ گندم لینے میں کوئی حرج نہیں۔
٢٢٠٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن هشام عن ابن سيرين في الرجل يبيع الطعام إلى أجل فيحل فلا يجد عنده دراهم، قال: خذ ما شئت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی کو ایک مدت تک کے لئے گندم بیچی، جب وہ مدت آئی تو اس کے پاس دراہم نہیں تھے تو وہ جو چاہے لے لے۔
٢٢٠٢٤ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن حماد قال: خذ ما شئت] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد فرماتے ہیں کہ جو چاہو لے لو۔
٢٢٠٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن جابر عن الشعبي قال: ذلك طعام بطعام.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ یہ غلہ غلے کے بدلے ہوگا۔
٢٢٠٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن أيوب قال: سئل محمد عن الرجل يبيع المتاع إلى أجل فيحل الأجل، أيأخذ متاعا؟ فقال: قد كان الرجل يأتي غريمه فيأخذ منه، فقيل له: أيبيع طعاما ويأخذ طعاما؟ قال: فإني لا أقول فيه شيئًا.
مولانا محمد اویس سرور
ایوب فرماتے ہیں کہ محمد سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی شخص سامان کو ایک مدت تک کے لئے بیچے اور جب وہ مدت آجائے تو کیا وہ سامان لے سکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک شخص اپنے مقروض کے پاس جاتا ہے اور اس سے یہ لے لیتا ہے۔ ان سے کہا گیا کہ کیا وہ غلہ بیچ رہا ہے اور غلہ ہی لے رہا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں اس بارے میں کچھ نہیں کہتا۔
٢٢٠٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن مصعب عن الأوزاعي عن يحيى ابن أبي كثير قال: قضى عمر بن عبد العزيز في دين المتوفى من طعام، قال: (لا) (١) (يأخذ الطعام) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن عبد العزیز نے اس شخص کے بارے میں فیصلہ فرمایا جو فوت ہوجائے اور اس نے کسی کا غلہ دینا ہو تو غلہ نہیں لیا جائے گا۔