٢١٩٥٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عيسى بن يونس عن الأوزاعي عن الزهري قال: مضت السنة أن تجوز شهادة النساء فيما لا يطلع عليه غيرهن من ولادات النساء (و) (١) عيوبهن، وتجوز شهادة القابلة وحدها في الاستهلال، وامرأتان فيما سوى ذلك (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ جن چیزوں پر مرد مطلع نہیں ہوسکتے ان میں عورتوں کی گواہی درست ہے، جیسے عورتوں کے یہاں بچے کی پیدائش اور عورتوں کے عیوب وغیرہ، نومولود بچے کے سانس لینے کے بارے میں صرف دائی اور اس کے ساتھ دو عورتوں کی گواہی درست ہوگی۔
٢١٩٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو بكر بن عياش عن مطرف عن الشعبي فيما لا تجوز فيه شهادات الرجال: أربع (نسوة) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ جن چیزوں میں مردوں کی گواہی درست نہیں ان میں دو عورتوں کی گواہی کافی ہے۔
٢١٩٦١ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن عبد الملك عن عطاء قال: تجوز شهادة النساء على الاستهلال] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ نومولود بچے کے سانس لینے کے بارے میں عورتوں کی گواہی درست ہے۔
٢١٩٦٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن إسماعيل عن عامر قال: من الشهادات (شهادات) (١) لا يجوز فيها إلا شهادات النساء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ بعض گواہیاں ایسی ہیں جن میں صرف عورتوں کی گواہی جاری ہوسکتی ہے۔
٢١٩٦٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن حماد عن إبراهيم.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم، حسن اور حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ جن باتوں پر مرد مطلع نہیں ہوسکتے ان میں صرف ایک عورت کی گواہی بھی کافی ہے۔
٢١٩٦٥ - وعن أشعث عن الشعبي (قالوا) (١): (تجوز) (٢) شهادة امرأة واحدة فيما لا يطلع عليه الرجال.
٢١٩٦٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن ابن جريج عن عطاء قال: لا يجوز أقل من شهادة أربع نسوة فيما لا (يجوز) (١) فيه شهادة الرجال.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ جن چیزوں میں مردوں کی گواہی درست نہیں ان میں چار عورتوں سے کم کی گواہی درست نہیں۔
٢١٩٦٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن عبد الأعلى عن شريح أنه أجاز شهادة قابلة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح نے دائی کی گواہی کو جائز قرار دیا۔
٢١٩٦٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن جابر عن عبد اللَّه بن نجي عن علي أنه أجاز شهادة قابلة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دائی کی گواہی کو جائز قرار دیا۔
٢١٩٦٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص بن غياث عن الشيباني وأبي حنيفة عن حماد قال: (١) تجوز شهادة قابلة واحدة، وقال أحدهما: وإن كانت يهودية.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد فرماتے ہیں کہ ایک دائی کی گواہی کافی ہے اور ان میں سے ایک فرماتے ہیں کہ خواہ وہ یہودیہ ہی کیوں نہ ہو۔
٢١٩٧٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسماعيل عن الشعبي قال: من الشهادة شهادة لا يجوز فيها إلا شهادة امرأة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ بعض گواہیاں ایسی ہیں جن میں صرف عورت کی گواہی جائز ہوسکتی ہے۔