٢١٤٣٦ - حدثنا حفص بن غياث عن داود عن أبي العالية والشعبي أنهما كانا يرخصان في بيع المصاحف.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عالیہ اور حضرت شعبی نے مصاحف کے بیچنے کو درست قرار دیا ہے۔
٢١٤٣٧ - حدثنا إسماعيل بن إبراهيم عن داود عن الشعبي أنه قال: إنهم ليسوا يبيعون كتاب (اللَّه) (١)، (إنما) (٢) يبيعون الورق وعمل أيديهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ لوگ اللہ کی کتاب نہیں بیچتے دراصل کاغذ اور اپنا کام بیچتے ہیں۔
٢١٤٣٨ - حدثنا (١) (عبد اللَّه) (٢) بن إدريس عن هشام عن الحسن أنه كان لا يرى ببيعها وشرائها (بأسا) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حسن مصاحف کی خریدو فروخت کو درست سمجھتے تھے۔
٢١٤٣٩ - حدثنا إسماعيل بن إبراهيم عن سعيد (عن) (١) مطر الوراق عن الحسن والشعبي أنهما كانا لا يريان بأسا ببيع المصاحف.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور حضرت شعبی کے نزدیک مصاحف کی خریدو فروخت میں کوئی حرج نہیں۔
٢١٤٤٠ - حدثنا ابن إدريس عن داود عن الحسن أنه لم يكن (يرى) (١) ببيعها وشرائها بأسا.
مولانا محمد اویس سرور
حسن کے نزدیک مصاحف کی خریدو فروخت میں کوئی حرج نہیں۔