٢١٤٤١ - حدثنا قاسم بن مالك المزني عن أيوب (بن) (١) (عائذ) (٢) قال: قلت للشعبي: ها هنا قوم يكتبون المصاحف بالأجر. (فقال) (٣): أما أنت فلا تفعله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ایوب بن عائذ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبہ سے سوال کیا کہ کچھ لوگ مصاحف کی کتابت پر اجرت لیتے ہیں، یہ کیسا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ تم ایسا مت کرنا۔
٢١٤٤٢ - حدثنا معاذ بن (معاذ) (١) عن ابن عون عن محمد أنه يكره [أن يشارط على كتابتها] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
محمد نے مصحف کی کتابت کا مالی معاہدہ کرنے کو مکروہ کہا ہے۔
٢١٤٤٣ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ابن أبي ليلى عن (أبيه) (١) (عيسى) (٢) عن (أبيه) (٣) عبد الرحمن بن أبي ليلى أنه كتب له نصراني مصحفا من أهل (الحيرة) (٤) بتسعين درهما.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلی کے ایک بیٹے عیسیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن نے حیرہ کے ایک عیسائی سے نوے درہم کے بدلے مصحف لکھوایا تھا۔
٢١٤٤٤ - حدثنا حفص بن غياث عن الأعمش عن إبراهيم أنه كره (كتاب) (١) المصاحف بالأجر، و (تأول) (٢) هذه الآية: ﴿فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ يَكْتُبُونَ الْكِتَابَ بِأَيْدِيهِمْ﴾ [البقرة: ٧٩].
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم نے مصحف کی کتابت پر اجرت لینے کو مکروہ قرار دیا اور دلیل کے طور پر یہ آیت پڑھی : { فَوَیْلٌ لِلَّذِینَ یَکْتُبُونَ الْکِتَابَ بِأَیْدِیہِمْ }۔
٢١٤٤٥ - حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن إبراهيم عن علقمة أنه أراد أن يكتب مصحفا فاستعان (أصحابه) (١) وكتبوه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ نے ایک مصحف لکھنے کا ارادہ کیا تو اپنے ساتھیوں سے مدد لی اور انہوں نے لکھا۔
٢١٤٤٦ - حدثنا حفص عن جعفر عن أبيه أنه كان لا يرى بأسا أن يعطيه على كتابته يعني أجرا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جعفر کے والد فرماتے ہیں کہ مصحف کی کتابت پر اجرت لینے میں کوئی حرج نہیں۔
٢١٤٤٧ - حدثنا إسماعيل بن إبراهيم عن سعيد عن أبي معشر عن إبراهيم أنه كان يكره أن (يعطى) (١) على (كتابتها) (٢) أجرًا.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم کے نزدیک مصحف کی کتابت پر اجرت لینا مکروہ ہے۔