٢١٠٦٢ - حدثنا ابن مبارك عن معمر عن هشام عن أبيه قال: لا بأس بأكل اليربوع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ یربوع کھانے میں کوئی حرج نہیں۔
٢١٠٦٣ - حدثنا عبد الرزاق عن معمر عن هشام عن أبيه قال: لا بأس به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ یربوع کھانے میں کوئی حرج نہیں۔
٢١٠٦٤ - حدثنا (زيد) (١) بن (الحباب) (٢) عن حماد بن سلمة عن قتادة عن ابن ⦗٢١٦⦘ عباس قال: لا بأس باليربوع (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یربوع کھانے میں کوئی حرج نہیں۔
٢١٠٦٥ - حدثنا زيد بن (حباب) (١) عن داود بن أبي الفرات عن إبراهيم (الصائغ) (٢) عن عطاء أنه قال: في الذئب لا يؤكل، واليربوع يؤكل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ بھیڑیے کو نہیں کھایا جائے گا، یربوع کو کھایا جائے گا۔
٢١٠٦٦ - حدثنا عبد الرزاق عن معمر عن عطاء الخرساني قال: لا بأس به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء خراسانی فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
٢١٠٦٧ - حدثنا زيد بن الحباب عن أبي الوسيم قال: سألت حسن بن حسين بن علي عن اليربوع قال: فأر البرية.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو وسیم کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن بن حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے یربوع کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے اسے مکروہ قرار دیا۔
٢١٠٦٨ - حدثنا غندر عن شعبة قال: سألت الحكم وحمادا عن أكل اليربوع (فكرهاه) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم اور حضرت حماد نے یربوع کے کھانے کو مکروہ قرار دیا۔