٢٠٢١٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم أنه كان يراه جائزًا.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ حالتِ شرک میں دی گئی طلاق کو جائز قرار دیتے تھے۔
٢٠٢١٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا هشيم عن حجاج عن عطاء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ اور حضرت شعبی رحمہ اللہ حالتِ شرک میں دی گئی طلاق کو جائز قرار دیتے تھے۔
٢٠٢٢١ - حدثنا أبو بكر قال: نا هشيم عن يونس عن الحسن أنه كان لا يراه جائزًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ حالتِ شرک میں دی گئی طلاق کو جائز نہیں سمجھتے تھے۔
٢٠٢٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا حفص عن ابن (جريج) (١) قال: قلت لعطاء أبلغك أن رسول اللَّه ﷺ ترك أهل الجاهلية على ما كانوا عليه من نكاح أو طلاق؟ قال: نعم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے پوچھا کہ کیا آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ نے اہل جاہلیت کو ان میں رائج نکاح اور طلاق کے ضابطوں کو باقی رکھا تھا ؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں ایسا ہی ہے۔
٢٠٢٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن شعبة قال: سألت الحكم وحمادًا فقالا: جائز، يعني: طلاق الشرك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم اور حضرت حماد سے حالت شرک میں دی گئی طلاق کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ جائز ہے۔
٢٠٢٢٤ - حدثنا أبو بكر قال، نا وكيع عن سفيان عن فراس عن عامر قال: لم يزده الإسلام إلا شدة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اسلام نے سختی میں اضافہ کیا ہے۔
٢٠٢٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن (ابن) (١) أبي عروبة عن قتادة أن رجلًا طلق امرأته في الجاهلية تطليقتين ثم أسلم، فطلقها في الإسلام تطليقة (فسأل) (٢) عمر عبد الرحمن بن عوف فقال: طلاقه في الشرك ليس بشيء (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے زمانہ جاہلیت میں اپنی بیوی کو دو طلاقیں دیدیں۔ پھر اسلام قبول کیا اور اسلام میں اپنی بیوی کو ایک طلاق دی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ حالت شرک میں دی گئی طلاق کا کوئی اعتبار نہیں۔